سورت، 14/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)گجرات کی معاشی راجدھانی سورت گزشتہ دنوںشدید بارش کی وجہ سے سیلاب کی لپیٹ میں آئی ۔شہر کے کئی علاقے ڈوب گئے اور لوگوں کے گھروں اور دکانوںمیں پانی داخل ہوگیا۔سیلاب کی وجہ سے شہری بے بس نظر آئے اوراب انہوں نے شہرکی صورتحال کا ٹھیکرہ عوامی نمائندوں کے سرپھوڑا ہے اور یہ الزام بھی لگایا ہےکہ اراکین اسمبلی اور کارپوریٹروں نے بدترین سیلاب میں شہریوںکوتنہا چھوڑ دیا ۔واضح رہےکہ گجرات میں بی جےپی کی حکومت ہے۔
مسلسل تین دن شدید بارش کےسبب سورت کی کئی رہائشی کالونیاں ڈوب گئیں اور شہریوںکیلئے رہنے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا بھی مسئلہ ہوگیا۔ شہریوں نے پینے کا پانی بھی نہ ملنے کی شکایت کی اورکہا کہ جب شہر سیلاب سے متاثر تھا تب کوئی عوامی نمائندہ شہریوںکی خبر گیری کرنے نہیں پہنچا۔
کپودرا، پانڈیسارا اور پروت پاٹیہ میں رہنے والے شہریوں نے واضح طورپراراکین اسمبلی اورشہری حکام کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ جب تک عوام پوری طرح برہم اورمشتعل نہیں ہوجاتےوہ سامنے نہیںآتے۔سورت کے کپودرا علاقے میں سنیچر کی رات ایک ڈرامائی تصادم ہوا جہاںوارڈ نمبر۴؍ کی کارپوریٹر ہنسا گجیرا صورتحال کا جائزہ لینے اور مکینوں کی شکایات سننے پہنچیں۔ معمول کے جائزے کے بجائے انہیں اس موقع پر عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ علاقے کی خواتین نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور بدترین سیلاب کے دوران علاقےمیںنہ پہنچنے پر سوال اٹھائے ۔
وہاں موجود خواتین نے کہاکہ ’’جب آپ کو ووٹ درکار تھے تو آپ بار بار ہماری سوسائٹیوں کا چکر لگاتے تھے مگر آج جب ہمارے گھر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیںاورہمیں پینے تک کا پانی میسر نہیں ہے ، آپ کہیںدکھائی تک نہیںدئیے۔‘‘ مکینوںنے خاص طورپر یہ بتایاکہ ان کے گھر کئی گھنٹے ڈوبے رہے اور اس دوران صاف پانی حاصل کرنا ان کیلئے نا ممکن رہا ۔
مقامی افراد نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سیلاب والا دن کچھ کھائے پئے بغیر گزارا کیونکہ پانی گھروں میں داخل ہو چکا تھا ، پینے کا پانی نہیںتھا اور کچن میں ضروریات کی سب چیزیںبھیگ چکی تھیں۔بھیڑ کا بڑھتا غصہ دیکھ کر کارپوریٹر ہنسا گجیرا نے ان سے پُرسکون رہنے کی اپیل کی اور انہیں یقین دلایا کہ انتظامیہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہےلیکن کا رپوریٹر کی زبانی یہ بات سن کربھیڑ اور بھی مشتعل ہوگئی۔ جب انہوں نےلوگوں سے پُرامن رہنے کی تو ایک مشتعل خاتون نے فوراً جواب دیا کہ مکین کئی دنوں سے خاموشی سے اذیت جھیل رہے ہیں اور کوئی سرکاری یا عوامی نمائندہ علاقے میں نہیں پہنچا۔
ایک اور خاتون نے مطالبہ کیا کہ یقین دہانیاں کرانے کے بجائے انتظامیہ فوری طور پر پینے کے پانی کے ٹینکر بھیجے کیونکہ پانی نہ ہونےسےبچوں اور بوڑھوں کو شدید دشواریاں ہورہی ہیں۔جیسے جیسے زبانی تصادم تیز ہوتا گیا، کارپوریٹر بڑھتے ہوئے ہجوم سے بظاہر مغلوب دکھائی دی۔ایک لمحے میں بے بس قدرے مایوس نظر آنے والی کارپوریٹر نے خواتین سے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ معاملے کو طول نہیںدینا چاہتیں۔مقامی لوگوں کے مطابق سیاسی یقین دہانیوں کے بجائے فوری ریلیف وقت کی اہم ضرورت تھی۔یہ عوامی ردعمل کپودرا تک محدود نہیں تھا۔پانڈیسارا میں، بی جے پی ایم ایل اے منو پٹیل بھی جب وارڈ نمبر ۲۸؍ میں سیلاب کا جائزہ لینے پہنچےتووہاں بھی مکینوں نے الزام لگایا کہ تین دن جب وہ سیلاب میں بری طرح پھنسے رہے تب کوئی عوامی نمائندہ نہیںپہنچا۔خواتین نے کہا کہ ان کے گھر پانی میں ڈوبے رہے اورکوئی مدد نہیں پہنچائی گئی ۔پروت پاٹیا میں جب حکام اور مقامی لیڈرایک ٹریکٹر پر سیلاب سے متاثرہ علاقے کا معائنہ کرنے پہنچے تو انہیںبھی مقامی افراد نے روک لیا اورکہا کہ جب تک وہ نیچے اتر سیلاب زدہ گلیوں سےنہیں گزرتےتب تک انہیں آگے بڑھنے نہیںدیاجائے گا ۔انہوں نے سوال کیاکہ بی جےپی کے ۴؍ سالہ دوراقتدار میں کیا حاصل ہوا ۔ انفرا سٹرکچر میں بہتری میں کے کھوکھلے وعدوں کے باوجودحقیقت یہ ہےکہ شہریوں کو ہر سال سیلاب کی ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔