بنگلورو، 14/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک ریاستی انفارمیشن کمیشن کے انفارمیشن کمشنر ردرنا ہرتی کوٹی نے حقِ معلومات قانون کے تحت ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے پولیس تھانوں میں نصب نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ سے متعلق معلومات درخواست گزار کو فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیشن نے اس معاملے میں ضابطۂ کار کی خلاف ورزی پر ایک سینئر پولیس افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔
یہ معاملہ منڈیا ضلع کے ملاولی پولیس تھانوں سے متعلق ہے، جہاں درخواست گزار نے 10 اکتوبر 2021 سے 31 مارچ 2022 کے درمیان نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ طلب کی تھی۔ ابتدائی طور پر متعلقہ پولیس حکام نے حقِ معلومات قانون کی بعض دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
بعد ازاں ریاستی انفارمیشن کمیشن نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست کو قانون کے مطابق متعلقہ ادارے کو منتقل نہیں کیا گیا، جس کے باعث درخواست گزار کو معلومات سے محروم رکھا گیا۔ کمیشن نے اس طرزِ عمل کو ضابطے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی۔
کمیشن نے یہ بھی ہدایت دی کہ دونوں پولیس تھانوں کی ہارڈ ڈسک کو فارنزک جانچ کے لیے بھیجا جائے اور دستیاب ریکارڈنگ میں صرف وہی مناظر درخواست گزار کو فراہم کیے جائیں جو براہِ راست اس کے معاملے سے متعلق ہوں، جبکہ دیگر افراد کی رازداری کو برقرار رکھنے کے لیے غیر متعلقہ مناظر کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھا جائے۔
حکم کی تعمیل کرتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام نے ہارڈ ڈسک فارنزک جانچ کے لیے روانہ کی، دستیاب ریکارڈنگ کا تجزیہ کرایا اور اس کی نقل درخواست گزار کے حوالے کر دی۔ کمیشن نے اسے اپنی نوعیت کا ایک غیر معمولی اور اہم اقدام قرار دیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ اس وقت کے متعلقہ افسر نے درخواست کو قانون کے مطابق آگے منتقل نہیں کیا تھا بلکہ صرف یاد دہانی جاری کی تھی، جس کے نتیجے میں معلومات کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔ اسی بنیاد پر کمیشن نے متعلقہ افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ریاستی انفارمیشن کمیشن نے تمام سرکاری محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ حقِ معلومات قانون کی دفعات پر سختی سے عمل کریں اور شہریوں کی درخواستوں کو مقررہ طریقۂ کار کے مطابق نمٹائیں تاکہ شفافیت اور جوابدہی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔