نئی دہلی، 14/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) بھارتیہ جنتا پارٹی کی جموں و کشمیر یونٹ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی کو مبینہ طور پر رقم اور وزارتوں کی پیشکش کے الزامات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ نوٹس میں عمر عبداللہ سے سات دن کے اندر غیر مشروط عوامی معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف ۱۰۰؍کروڑ روپے کے ہتک عزت کے دعوے سمیت دیوانی اور فوجداری کارروائی کی جائے گی۔
قانونی نوٹس کے مطابق ایڈوکیٹ پریموکش سیٹھ نے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اور جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر ستپال شرما کی ہدایت پر پارٹی کی جانب سے یہ نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ۱۱؍جولائی کو سرینگر میں نیشنل کانفرنس کے ایک کارکن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی کے رہنماؤں نے جموں خطے سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے بعض اراکین اسمبلی کو ۲۰؍ سے ۳۰؍ کروڑ روپے، وزارتیں اور ریاستی درجے کی بحالی کی پیشکش کر کے پارٹی تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ نوٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سپریم کورٹ میں وکالت کرنے والا بی جے پی کا ایک سینئر عہدیدار بھی اس مبینہ کوشش میں شامل تھا۔ بی جے پی نے ان الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور اس سے پارٹی کی ساکھ اور عوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا کہ بی جے پی دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی خدمت کر رہی ہے، جبکہ ایسے الزامات کا مقصد پارٹی کی شبیہ کو خراب کرنا ہے۔پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمر عبداللہ تحریری طور پر اپنے الزامات واپس لیں، سات دن کے اندر غیر مشروط عوامی معافی مانگیں، آئندہ ایسے بیانات دینے یا پھیلانے سے گریز کریں اور فوری طور پر ان دعوؤں کی تکرار بند کریں۔ بی جے پی نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں عمر عبداللہ کے خلاف ۱۰۰؍کروڑ روپے کے ہرجانے کے دعوے سمیت مناسب دیوانی اور فوجداری کارروائی کی جائے گی۔ دریں اثنا بی جے پی نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی محرکات پر مبنی اور ہتک آمیز قرار دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے۱۱؍جولائی کو سرینگر میں نیشنل کانفرنس کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی اور اس مقصد کے لیے بعض اراکین اسمبلی کو لالچ دی گئی۔