بنگلورو 11جولائی (ایس او نیوز) : داونگیرے میں مبینہ "لو جہاد" کے الزام کے تحت ایک شخص پر بجرنگ دل کارکنوں کی جانب سے کیے گئے حملے کے معاملے پر ریاست کے وزیر داخلہ پرینک کھرگے نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینک کھرگے نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف کوئی بھی الزام ہو تو متعلقہ پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی جائے۔ قانون کے مطابق جو بھی کارروائی ضروری ہوگی، حکومت وہ کرے گی۔ لیکن اگر کوئی خود ہی متبادل کارروائی کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی، لیکن قانون کو ہاتھ میں لے کر اخلاقی پولیسنگ (Moral Policing) کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر ایسا کیا گیا تو متعلقہ افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بجرنگ دل کارکنوں کو اسی تناظر میں متنبہ کیا۔
رام مندر چندہ خردبرد معاملے کے سلسلے میں آر ایس ایس کی بیلگاوی میں منعقدہ بیٹھک پر بھی وزیر داخلہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹھک ضرور کریں، لیکن رام مندر کے لیے جمع کیے گئے چندوں کے معاملے میں شفافیت بھی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہر معاملے کا کریڈٹ لیتے ہیں تو رام مندر کے معاملے کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔
پرینک کھرگے نے چمپت رائے کی کمپنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتایا جائے کہ اس مبینہ لوٹ میں کس کا کتنا حصہ تھا۔ عقیدت مندوں کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی ہے، اس کی وضاحت کی جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ چندوں میں مبینہ خردبرد کیسے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ صرف کسی ایک ٹی وی چینل پر بیان دینے یا سوشل میڈیا پر وضاحت جاری کرنے سے بات نہیں بنے گی، پہلے مکمل جوابدہی ضروری ہے، اس کے بعد جو بھی فیصلہ کرنا ہو کیا جائے۔
انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ کس نے کتنی رقم بطور چندہ وصول کی؟ اگر کوئی رجسٹر موجود نہیں تھا تو پھر چندہ کس بنیاد پر وصول کیا گیا؟ کس شخص نے کتنی رقم حاصل کی؟ اس بارے میں عوام کو تفصیلات سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
بیلگاوی سرحدی تنازع پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے پرینک کھرگے نے کہا کہ آپ جس کی چاہیں حمایت کریں، لیکن آپ کی سرپرستی یا حوصلہ افزائی سے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہماری زبان اور ریاست کے معاملات میں مداخلت کی گئی تو کرناٹک خاموش نہیں بیٹھے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس قدر آپ کو اپنی ریاست سے محبت ہے، اس سے کہیں زیادہ ہمیں اپنی ریاست اور اپنے کنڑا باشندوں سے محبت ہے۔ اس لیے بیان دیتے وقت احتیاط برتیں اور قانون و امن و امان کا بھی خیال رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کے لیے مرکز اور سپریم کورٹ موجود ہیں، اگر کوئی قانونی مسئلہ ہے تو وہاں رجوع کریں، من مانی باتیں کرنا مناسب نہیں۔ اس طرح پرینک کھرگے نے دیویندر فڈنویس کے بیان کا بھی سخت جواب دیا۔