بنگلورو، 11/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک حکومت کی جانب سے کے اے ایس افسر آشا پروین کے مختصر مدت میں دوبارہ تبادلے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف دو ماہ قبل انہیں قدوائی میموریل انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم اب انہیں دوبارہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آشا پروین نے قدوائی اسپتال میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انتظامی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی تھی، جس کے بعد ان کا تبادلہ عمل میں آیا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس دعوے کی سرکاری طور پر نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید۔
اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس سے قبل وکٹوریہ اسپتال کے شعبۂ گردہ میں مبینہ بدعنوانیوں سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے بعد بھی ان کا تبادلہ کیا گیا تھا۔ ان دعوؤں کی بھی سرکاری سطح پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
تازہ تبادلے کے تحت آشا پروین کو بی ڈبلیو ایس ایس بی کا ایڈمنسٹریٹو افسر مقرر کیا گیا ہے۔
اپوزیشن اور بعض سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی افسر کی جانب سے بدعنوانی یا بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے تو اس پر کارروائی رپورٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے یا رپورٹ پیش کرنے والے افسر کے تبادلے کی صورت میں؟ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے دیانت دار افسران کے حوصلے متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے آشا پروین کے تبادلے کی وجہ کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ تبادلہ معمول کی انتظامی کارروائی کے تحت کیا گیا یا اس کے پس منظر میں کوئی اور وجہ کارفرما ہے۔
اس معاملے پر سیاسی بحث جاری ہے، جبکہ مختلف حلقے حکومت سے شفاف وضاحت اور حقائق عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔