ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کابینہ میں توسیع پر پارٹی قیادت کی رہنمائی کے بعد فیصلہ ہوگا: ڈی کے شیوکمار

کابینہ میں توسیع پر پارٹی قیادت کی رہنمائی کے بعد فیصلہ ہوگا: ڈی کے شیوکمار

Sat, 18 Jul 2026 17:19:41    S O News
کابینہ میں توسیع پر پارٹی قیادت کی رہنمائی کے بعد فیصلہ ہوگا: ڈی کے شیوکمار

بنگلورو/نئی دہلی، 18 /جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)نائب وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ ریاستی کابینہ میں توسیع کے معاملے پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت جاری ہے اور ان کی رہنمائی حاصل کرنے کے بعد ہی آئندہ اقدامات کیے جائیں گے۔

نئی دہلی میں کانگریس کے سابق مرکزی دفتر کے قریب ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ کابینہ میں توسیع کے سلسلے میں دہلی میں پارٹی قیادت سے بات چیت ہوئی ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے سے آج ملاقات ممکن نہیں ہو سکی، تاہم ہفتہ کو ان سے ملاقات کے بعد ان کی رہنمائی کی روشنی میں کابینہ میں توسیع کی تیاری کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی کے باعث گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے تحت آنے والی پانچ میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات مؤخر کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے مہلت طلب کی گئی تھی، جسے عدالت نے منظور کر لیا ہے۔

ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے انتخابات دسمبر کے اختتام تک کرائے جائیں گے، جبکہ ضلع پنچایت، تعلقہ پنچایت، گرام پنچایت، بلدیات اور دیگر مقامی اداروں کے انتخابات مارچ کے اختتام تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اس مرتبہ گرام پنچایت سے لے کر میونسپل کارپوریشنوں تک ہونے والے انتخابات میں نوجوانوں اور نئے چہروں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ مقامی خود اختیاری اداروں کو مضبوط بنایا جا سکے اور اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈی کے شیوکمار نے مزید کہا کہ آئین کی 73ویں اور 74ویں ترمیم کے مقاصد کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے گا تاکہ مقامی ادارے مزید بااختیار بن سکیں۔

انہوں نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر کے بارے میں کہا کہ یہ دفتر کانگریس کارکنوں کے لیے ایک عبادت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسی ادارے سے وابستہ ہو کر آگے بڑھے ہیں، اس لیے پارٹی کے رہنماؤں سے وہاں ملاقات کرنا ہمارے لیے باعثِ فخر اور ذمہ داری ہے۔


Share: