بھٹکل، 15 جولائی (ایس او نیوز): بھٹکل تعلقہ میں مرڈیشور بستی کے قریب نیشنل ہائی وے 66 پر بدھ دوپہر پیش آئے ایک المناک سڑک حادثے میں لاری کی ٹکر سے ایک بائک سوار موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ حادثے کے بعد مشتعل عوام کی بڑی تعداد جائے وقوع پر جمع ہوگئی اور نیشنل ہائی وے کی مبینہ غیر سائنٹیفک اور غیر معیاری تعمیر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج شروع کردیا، جس سے شاہراہ پر کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔
مہلوک کی شناخت کرشنا شنیار نائک (55) کے طور پر ہوئی ہے، جو مرڈیشور کے قریب سبپتّی علاقے کا رہائشی تھا۔
ذرائع کے مطابق کرشنا شنیار نائک اپنی موٹر سائیکل پر بھٹکل سے مرڈیشور کی جانب جا رہا تھا۔ بستی جنکشن پر سڑک عبور کرنے کے لیے وہ رکا ہوا تھا کہ اسی دوران پیچھے سے آنے والی ایک تیز رفتار لاری نے اس کی بائک کو زور دار ٹکر مار دی۔ ٹکر کی شدت سے وہ سڑک پر جا گرا اور لاری کے نیچے آ گیا، جس کے نتیجے میں اس کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔


حادثے کے فوراً بعد مقامی لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوع پر پہنچ گئی۔ مشتعل عوام نے الزام لگایا کہ نیشنل ہائی وے 66 کی فور لین تعمیر میں غیر منصوبہ بند اور ناقص انجینئرنگ کے باعث اس مقام پر بار بار حادثات پیش آ رہے ہیں، مگر متعلقہ ادارے اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ احتجاجیوں نے لاری کے نیچے پھنسی بائک اور مہلوک کی لاش کو نکالنے سے بھی روک دیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک نیشنل ہائی وے یا آئی آر بی (IRB) کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ کر عوام سے براہِ راست بات چیت نہیں کریں گے اور حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی یقین دہانی نہیں کرائیں گے، اس وقت تک لاش کو ہٹانے یا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی مرڈیشور اور بھٹکل پولیس کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔ بعد ازاں بھٹکل کے ڈی وائی ایس پی، اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار اور دیگر اعلیٰ انتظامی افسران بھی موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات میں مصروف ہوگئے۔ بعد میں آئی آر بی کا ایک انجینئر بھی جائے حادثہ پر پہنچا اور عوام سے بات چیت کے بعد نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔