نئی دہلی 14/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی): ملک میں مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو لے کر جنتر منتر پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا احتجاج اب ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ گزشتہ 24 دن سے جاری اس تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچوک نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی، جبکہ ان کی مسلسل گرتی ہوئی صحت نے سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تازہ ترین پیش رفت میں شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ اودھو ٹھاکرے نے نہ صرف تحریک کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنتر منتر پہنچ کر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔
احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں، خصوصاً NEET سمیت مختلف امتحانات میں سامنے آنے والے معاملات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔ احتجاجی تحریک کا کہنا ہے کہ یہ کسی ایک امتحان کا نہیں بلکہ ملک کے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیمی نظام پر اعتماد کا مسئلہ ہے۔

تحریک کے دوران سونم وانگچوک کی بھوک ہڑتال اب سترہویں دن میں داخل ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت مسلسل خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا وزن تقریباً 8.2 کلوگرام کم ہو چکا ہے جبکہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کی طبی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ادھر اودھو ٹھاکرے نے ممبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کا معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی جماعتی شناخت سے بالاتر ہو کر اس تحریک کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے راہول گاندھی سے اپیل کی کہ وہ خود جنتر منتر جائیں اور نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہوں، جبکہ سونم وانگچوک سے ان کی صحت کے پیش نظر بھوک ہڑتال ختم کرنے کی بھی درخواست کی۔
اس دوران عام آدمی پارٹی نے بھی احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔ دہلی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آتشی، سابق میئر شیلی اوبرائے اور دیگر رہنما جنتر منتر پہنچے اور احتجاجی طلبہ و کارکنوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس سے یہ تحریک محض ایک احتجاج کے بجائے وسیع سیاسی اور عوامی توجہ حاصل کرنے لگی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر آنے والے دنوں میں مزید اپوزیشن جماعتیں اس تحریک کے ساتھ کھل کر سامنے آتی ہیں تو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں امتحانی نظام، نوجوانوں کے روزگار اور تعلیمی اصلاحات کا مسئلہ ایک اہم قومی بحث بن سکتا ہے۔ تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے احتجاج کے بنیادی مطالبات پر اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔