ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ایرانی طیارے کو روکنے کے لیے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر بمباری، یمن میں تناؤ شدت اختیار کر گیا

ایرانی طیارے کو روکنے کے لیے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر بمباری، یمن میں تناؤ شدت اختیار کر گیا

Tue, 14 Jul 2026 00:29:48    S O News
ایرانی طیارے کو روکنے کے لیے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر بمباری، یمن میں تناؤ شدت اختیار کر گیا

صنعاء، 13 جولائی (ایس او نیوز): یمن میں کئی برس سے جاری نسبتاً خاموشی ایک بار پھر ٹوٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے کو اس وقت نشانہ بنایا جب ایران سے آنے والے ایک طیارے کی وہاں لینڈنگ متوقع تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس طیارے کو صنعاء میں اترنے سے روکنے کے لیے کی گئی، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اس پر حساس سامان یا دیگر مواد موجود ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران سے آنے والی پرواز نے سرکاری فضائی ضابطوں کی خلاف ورزی کی تھی، جبکہ حوثی تحریک نے اس کارروائی کو سعودی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ حوثیوں کے مطابق یہ طیارہ ایک شہری پرواز تھا اور اس پر موجود وفد ایران میں منعقدہ ایک تعزیتی تقریب سے واپس آ رہا تھا۔

رائٹرز کے مطابق یمن کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ حملہ براہِ راست صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر کیا گیا تاکہ ایرانی طیارہ وہاں نہ اتر سکے۔ بعد ازاں یہ طیارہ صنعاء کے بجائے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ کے ہوائی اڈے پر اترا، جو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق اس واقعے کے بعد یمنی حکومت نے ملک کے تمام ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے اس پیش رفت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں سے یمن میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی تھی۔ چند روز قبل بھی حوثیوں نے الزام لگایا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے ایرانی مسافر طیارے کو صنعاء پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ پرواز اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب رہی تھی۔ اس کے بعد سعودی قیادت والے اتحاد نے حوثیوں کے خلاف سخت کارروائیوں کی دھمکی دی تھی۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق موجودہ بحران کا ایک اہم پہلو ایران اور حوثیوں کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران سے یمن کے لیے براہِ راست پرواز ایک دہائی سے زائد عرصے بعد دوبارہ شروع ہوئی تھی، جسے سعودی عرب اور اس کے اتحادی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد قائم ہونے والے نسبتاً پرامن ماحول کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

الجزیرہ نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ غزہ جنگ، ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے اثرات اب یمن پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یمن میں کئی سال سے جاری خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے اور پورا خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔


Share: