ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا 19واں دن، عوامی حمایت میں اضافہ، حکومت کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں

سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا 19واں دن، عوامی حمایت میں اضافہ، حکومت کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں

Thu, 16 Jul 2026 11:48:12    S O News

نئی دہلی، 16 /جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) بدھ کو سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کے ۱۸؍ویں  دن بھی حکومت نے ان کی خبر نہیں لی حالانکہ ان کی حالت تیزی سے خراب ہو رہی ہے اور وزن ۹؍ کلو گھٹ گیاہے۔ان کے پٹھے کمزور ہورہے ہیں  اور بار بار  ان پر غنودگی طاری ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم حکومت اب تک خاموش تماشائی بنی ہوئی  ہے جبکہ عوامی سطح پر ان کو اور کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو ملنے   والی حمایت میں اچانک تیزی آگئی ہے۔

بدھ کو مہاراشٹر کے بھنڈارہ  سےکانگریس کے ایم پی پرشانت پڈولے نے جنتر منتر پہنچ کر سونم وانگ چک کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا اورعہد کیا کہ  ۲۰؍ جولائی کو وہ بھی پارلیمنٹ مارچ میں شامل ہوں گے۔  بدھ کوکئی اہم شخصیات نے جنتر منتر پہنچ کر وانگ چک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جبکہ جمعرات کو کسان لیڈر راکیش ٹکیت اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیجریوال نے بھی جنتر منتر پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔  جن لوگوں نے سونم وانگ چک کی حمایت کرتے ہوئے ان سے  بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے ان میں معروف اداکارہ شبانہ اعظمی،  اسٹینڈ اَپ کامیڈین منور فاروقی، فلم ڈائریکٹر انوراگ کشیپ،سونی رازدان،  کانگریس لیڈر ششی تھرور اور دیگر شامل ہیں۔ بدھ کو احتجاج میں پہنچنے والوں  میں  اہم نام رکن پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد کا بھی شامل  ہے جبکہ قومی میڈیا کی  توجہ نہ ہونے کے باوجود عوام کی بھیڑ میں بھی بدھ کو غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ۔

منور فاروقی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ  میں لکھا ہے کہ ’’یہ بھوک ہڑتال ملک کے تعلیمی نظام اور طلبہ کی بہتری کیلئے ہے۔ حکومت کو پرچہ لیک کے مسئلے کے حل کیلئے شفافیت پر مبنی مؤثر قدم اٹھانے چاہئیں۔ سونم وانگ چک ملک کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘ شبانہ اعظمی نے لکھا  ہے کہ ملک کو  سونم جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’ہمیں آپ پر فخر ہے۔ ہم آپ سے مخلصانہ درخواست کرتے ہیں کہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔‘‘ سونی رازدان نے بھی انسٹاگرام  پر بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے لکھا  ہے کہ ’’ہم سب آپ کی صحت کے لیے دعا گو ہیں۔ براہِ کرم ہمیں اس طرح چھوڑ کر نہ جائیں۔ زندہ رہیں تاکہ اپنی جدوجہد جاری رکھ سکیں۔‘‘


Share: