ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے؛ بھوج شالہ کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت

نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے؛ بھوج شالہ کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت

Wed, 15 Jul 2026 11:57:05    S O News

نئی دہلی ،  15/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع بھوج شالہ احاطے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے منگل کے روز اہم ہدایت جاری کی۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سوریہ کانت نے عبوری انتظام کرتے ہوئے کہا کہ بھوج شالہ احاطے سے متصل ایک کھلی جگہ مسلم فریق کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے فراہم کی جائے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک عبوری انتظام ہے اور اس کو کسی بھی فریق کے حقوق یا دعوؤں پر حتمی فیصلہ تصور نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ اس انتظام کا مقصد مقدمے کے آخری فیصلے تک امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایسا عبوری انتظام کرے جس سے کسی بھی فریق کو تکلیف نہ ہو اور مسلم فریق پہلے کی طرح نماز بھی ادا کر سکے۔

سپریم کورٹ میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اُس فیصلہ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس میں بھوج شالہ کو ماں سرسوتی کے نام سے منسوب مندر قرار دینے سے متعلق نتائج پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ بھوج شالہ ماں سرسوتی کا قدیم مندر ہے، جبکہ مسلم فریق اس کو کمال مولا مسجد بتاتا ہے۔ سماعت کے دوران مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد برسوں سے برقرار اسٹیٹس کو ختم ہو گیا ہے، جس سے مسلم برادری کے مذہبی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔

مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت میں کہا کہ ہندوستان کئی تہوں پر مشتمل تاریخ رکھنے والا ملک ہے اور ماضی کے ہر تاریخی واقعے کی بنیاد پر موجودہ نظام کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کا مشہور قول دہراتے ہوئے کہا کہ “آنکھ کے بدلے آنکھ کی پالیسی اپنانے سے پوری دنیا اندھی ہو جائے گی۔” سنگھوی نے دلیل دی کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ مقامات پر کبھی مندر رہے ہوں، لیکن صرف اسی بنیاد پر تاریخ کو پلٹ دینا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے اپنے مؤقف کے حق میں تاج محل سے متعلق ایک پرانے مقدمے کا بھی حوالہ دیا۔

بحث کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے دونوں فریقوں کے سینئر وکلاء سے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے، اس لیے دلائل پیش کرتے وقت الفاظ کا انتخاب نہایت احتیاط سے کیا جائے۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کی حتمی سماعت اُس دن مقرر کی جائے گی جب دونوں فریقوں کے سینئر وکلاء کے پاس مناسب وقت ہوگا۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر اس معاملے کی سماعت پورا دن جاری رکھی جائے گی۔


Share: