ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / حد بندی کے ذریعے اقتدار پر قبضے کی کوشش ہو رہی ہے: عمر عبداللہ

حد بندی کے ذریعے اقتدار پر قبضے کی کوشش ہو رہی ہے: عمر عبداللہ

Sun, 12 Jul 2026 17:46:51    S O News

جموں، 12/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اتوار کو بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حد بندی کا عمل پچھے دروازے سے حکومت کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ ایک جلسۂ عام کو خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت پر اپنے وعدوں سے مکرنے اور علاقائی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر کے لوگوں نے ریاستی حیثیت کی بحالی کا طویل انتظار کیا ہے اور اب مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ سیاسی لیڈران، اراکین پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے اس یقین دہانی کے باوجود کہ ریاست کا درجہ جلد از جلد بحال کیا جائے گا۔ مرکز نے بار بار اپنے وعدے توڑے ہیں۔ لوگوں نے مرکز پر بھروسہ کیا تھا، لیکن انہیں ادھورے وعدے ہی ملے۔‘‘

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’حد بندی کا عمل جمہوری نمائندگی کو مضبوط کرنے کے بجائے پچھلے دروازے سے حکومت کرنے میں مدد کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ بی جے پی ’آپریشن لوٹس‘ کے ذریعہ ملک بھر میں اپوزیشن پارٹیوں کو کمزور کرنے اور توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مہاراشٹر میں شیو سینا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی جیسی مثالیں دیں۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں حدبندی کا عمل 2022 میں مکمل ہوا تھا، جس کے بعد اسمبلی سیٹوں کی تعداد 83 سے بڑھ کر 90 ہو گئی۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ مرکز سے کوئی احسان نہیں مانگا جا رہا ہے، بلکہ یہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے کیا گیا وعدہ ہے۔ اس وعدے کی حمایت تقریباً ان تمام اہم سیاسی جماعتوں نے بھی کی تھی، جنہوں نے 2024 کا انتخاب لڑا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی کو یہ چیلنج بھی دیا کہ وہ اپنے کسی ایسے امیدوار کا نام بتائے جس نے 2024 کے انتخابات میں ریاست کا درجہ بحال کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے انتخابی مہم چلائی ہو۔

عمر عبداللہ نے بی جے پی کے وعدے پورے کرنے کے ریکارڈ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی اکثر دوسروں کو ان کے انتخابی وعدوں کی یاد دلاتی ہے، لیکن اسے لوگوں سے کیے گئے اپنے وعدوں کی صورتحال بھی بتانی چاہیے۔ برسراقتدار نیشنل کانفرنس (این سی) نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ مسئلہ ان کے سیاسی ایجنڈے کے مرکز میں رہے گا۔ پارٹی نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے اپنے مطالبے کی حمایت میں قومی راجدھانی دہلی کے ’جنتر منتر‘ پر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔


Share: