نئی دہلی،18/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک نے دہلی میں جاری اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں ۲۰؍جولائی تک ہر حال میں زندہ رہوں گا۔ ۵۹؍ سالہ سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کو جمعہ کو ۲۰؍ دن مکمل ہوگئے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی مزید ۳؍ طلبہ لیڈر بھی ۲۰؍ دن سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان تینوں کی بھی حالت خراب ہو رہی ہے لیکن انہوں نے بھی انشن ختم کرنے سے انکار کردیا۔ دریں اثناء ڈاکٹروں کے مطابق سونم وانگ چک کی صحت تشویش ناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کا وزن ۹؍کلو گرام کم ہو گیا ہے جس پر ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل صرف پانی پر انحصار ان کے لئے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے کیوں کہ ان کے اہم اندرونی اعضاء کسی بھی وقت کام کرنا بند کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی وارننگ کے باوجود سونم وانگ چک نے کہا کہ وہ ۲۰؍ جولائی تک زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ انہیں یقین ہےکہ وہ زندہ رہیں گے کیوں کہ وہ ایک بہتر مقصد کو لے کر میدان میں ہیں اور اوپر والا انہیں ناکام نہیں ہونے دے گا۔
اس دوران سونم وانگ چک نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہاکہ وہ ۲۰؍ جولائی کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ کا گھیرائو دیکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ سی جے پی کا پارلیمنٹ کا گھیرائو پُرامن ہوگا اور اس میں بڑی تعداد میں عام لوگ شریک ہوں گے۔ واضح رہے کہ سونم وانگ چک کے ساتھ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا ) کے ۳؍ طلبہ لیڈر نیہا بورا ،منیش اور آمین بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان میں سے نیہا کی حالت کافی خراب ہو گئی ہے لیکن اس نے مطالبات پورے ہونے تک انشن ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔یاد رہے کہ ان تینوں نے بھی سونم وانگ چک کے ساتھ ہی انشن پر بیٹھنے کا اعلان کیا تھاجبکہ دیگر طلبہ لیڈر چکری بھوک ہڑتال کررہے ہیں ۔
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور طلبہ کے دیگر مطالبات کے حق میں جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کررہے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک سے جمعہ کو کانگریس لیڈر پون کھیڑا، ممتاز پٹیل، ایڈوکیٹ راجندر پال،این سی پی (شردپوار) لیڈر سپریہ سلے نے ملاقات کی۔ قابل ذکر ہے کہ سونم وانگچک نے کہا تھا کہ اگر راہل گاندھی اور اکھلیش یادو جیسے لیڈران ان سے ملنے نہیں آتے ہیں تو یہ ان کا چھوٹا پن ہوگا۔ پون کھیڑا نے سونم وانگ چک سے ملاقات کے بعد کہا کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج آئینی حق ہے۔ جب شہری اپنی بات منوانے کے لیے بھوک ہڑتال کرتا ہے تو حکومت کا فرض سننا ہوتا ہے، نظریں ہٹانا نہیں۔ وہ راج دھرم ہے۔ پون کھیڑا نے مزید کہا کہ یہی اندرا گاندھی جی نے ۱۹۸۴ء میں کیا۔ یہی کام ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے ۲۰۱۱ء میں کیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اختلافات کے باوجودحکومت کی پہلی ذمہ داری بات چیت کی ہوتی ہے۔ تاہم اس حکومت نے بے حسی کامظاہرہ کیا۔ اس نے تعلیمی اصلاحات کے مطالبے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ کانگریس لیڈرنے کہا کہ اس طرح کی بے حسی محض تکبر نہیں ہے۔ یہ ظالمانہ اور مکمل طور پر غیرجمہوری ہے۔ پون کھیڑا نے کہا کہ انہو ں نے آج کانگریس پارٹی کی طرف سے جنتر منتر پر سونم وانگ چک اور مظاہرین سے ملاقات کی اور ان سے ان کی بگڑتی ہوئی صحت کی روشنی میں اپنی ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک اپنے لوگوں کو کھونے سے مضبوط نہیں ہوتی۔ ہمیں لڑنے کے لیے زندہ رہنا پڑتا ہے۔ سپریہ سلے نےکہا کہ میں نے سونم جی سے اپیل کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں، کیونکہ ملک کو آنے والے طویل سفر میں ان کی آواز اور قیادت کی ضرورت ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ حکومت نے اب تک طلبہ کے ساتھ کوئی بامعنی بات چیت شروع نہیں کی۔