نئی دہلی، 16 /جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) یہاں کی ایک عدالت نے دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں گزشتہ 6 برس سے جیل میں بند سابق طلبہ لیڈر عمر خالد کو بڑی راحت دیتے ہوئے ہفتے میں دو بار اپنے اہل خانہ سے ویڈیو کال پر گفتگو کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ چونکہ عمر خالد نے جیل میں قیام کے دوران کسی بھی جیل ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی، اس لئے انہیں یہ سہولت فراہم کی جانی چاہئے۔
عمر خالد نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ہفتے میں دو بار ویڈیو کال کے ذریعے اپنی والدہ اور دیگر اہل خانہ سے گفتگو کی اجازت دی جائے۔ ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل جانے کے بعد سے انہیں ہر ہفتے دو ’’ای ملاقاتوں‘‘ کی سہولت حاصل تھی، تاہم اسی سال مئی سے انہیں بغیر کوئی وجہ بتائے اس سہولت کو کم کرکے ہفتے میں ایک بار کر دیا گیا تھا۔
عمر خالد کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج سمیر واجپئی نے اپنے حکم میں کہا کہ عمر خالد گزشتہ 6 برس سے مسلسل اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے دہلی جیل قواعد و ضوابط کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ عدالت نے اس بنیاد پر انہیں دوبارہ ہفتے میں دو بار ای ملاقات کی اجازت دے دی۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو اپنی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد سے بات چیت کے لئے ہفتے میں دو ای ملاقاتوں کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان کا جیل میں رویہ اطمینان بخش ہے اور ان کے خلاف جیل قوانین کی خلاف ورزی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے اور نہ کوئی شکایت ہے۔
دوسری جانب جیل انتظامیہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ جیل ضوابط کے مطابق عمر خالد ہفتے میں صرف ایک ای ملاقات کے حق دار ہیں۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ چونکہ انہیں گزشتہ چھ برس سے ہفتے میں دو ای ملاقاتوں کی سہولت حاصل رہی ہے، اس لئے اس سہولت کو برقرار رکھا جانا چاہئے۔
واضح رہے کہ عمر خالد 2020ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے کیس میں بغیر کسی عدالتی کارروائی یا مقدمہ کے جیل میں قید ہے۔ اسے رہا کیا جارہا ہے اور نہ ضمانت دی جارہی ہے۔