نئی دہلی ، 8/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)ہندوستان کو ملنےوالے خام تیل کی باسکٹ ایران جنگ سے قبل کی قیمتوں سے بھی کم قیمت پر مل رہی ہے تاہم صارفین کو اس کا فائدہ پہنچانے کے بجائے ان سے جنگ کے دوران بڑھائی گئی قیمتیں ہی وصول کی جارہی ہیں۔ پیٹرولیم وزیر اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ جنگ کے دوران مہنگی قیمتوں میں خریدا گیا خام تیل کا اسٹاک ختم ہونے کےبعد ہی سرکاری تیل کمپنیاں قیمتوں میں کمی پر غور کریں گے۔ دوسری طرف نجی ریفائنری نیارا انجرجی پیٹرول ۵؍ روپے اور ڈیزل ۳؍ روپے فی لیٹر سستا کرچکی ہے۔
پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالائسیس سیل (پی پی اے سی) کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے دوران ہندوستان کی خام تیل کی اوسط درآمدی قیمت ۶۷ء۸۸؍ ڈالر فی بیرل رہی جو مغربی ایشیا میں تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے بھی کم ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق۳؍ جولائی کو ہندوستانی خام تیل کے باسکٹ کی قیمت۶۸ء۲۱؍ ڈالر فی بیرل تھی جو جنگ کے بعد کی کم ترین سطح اور جنگ سے قبل کی فروری میں ریکارڈ کی گئی۶۹ء۰۱؍ ڈالر فی بیرل کی اوسط قیمت سے بھی کم ہے۔
مغربی ایشیا میں تنازع کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ مارچ میں ہندوستان کو ملنے والے خام تیل کی اوسط قیمت۱۱۳ء۴۹؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ مئی میں یہ اوسط ۱۰۶ء۲۳؍ ڈالر فی بیرل رہا۔ جون میں کم ہو کر۸۳ء۲۲؍ ڈالر فی بیرل پر آ گیا جبکہ جولائی میں اب تک اس کی اوسط قیمت ۶۷ء۸۸؍ ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہے۔
ہندوستان کو ملنےوالے خام تیل کی قیمت میں اس نمایاں کمی کو دیکھتے ہوئے صارفین پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے منتظر ہیں۔ مرکزی وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے حال ہی میں کہا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر مستحکم رہیں تو آئندہ چند ماہ میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔ موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں توقع سے پہلے کم ہو سکتی ہیں۔پی پی اے سی کے مطابق ۲۶-۲۰۲۵ء کے دوران ہندوستان کو ملنےوالے خام تیل کی اوسط قیمت۷۰ء۹۹؍ ڈالر فی بیرل رہی۔ اس مالی سال میں سب سے کم ماہانہ اوسط قیمت دسمبر میں ۶۲ء۲۰؍ ڈالر فی بیرل اور اس کے بعد جنوری میں۶۳ء۰۳ ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق جغرافیائی کشیدگی میں کمی کے ساتھ ہی ساتھ اوپیک پلس ممالک کی جانب سے پیداوار میں اضافہ اور چین میں طلب میں نرمی بھی عالمی قیمتوں میں کمی کی اہم وجوہات ہیں۔