متاثرہ مریضوں سے رابطے میں آئے ہوئے 46افراد کوبھی سختی کے ساتھ کورنٹائن کیا جائے گا
بھٹکل 30/مارچ (ایس او نیوز) مِنی دبئی کے نام سے پہچانے جارہے بھٹکل شہر میں کورونا وائرس سے متاثر مشتبہ افراد کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے اُترکنڑا ضلع انتظامیہ نے کچھ سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔
اس طرح کے ایک تازہ اقدام کے تحت 15مارچ کے بعد بیرونی ممالک سے بھٹکل لوٹے ہوئے تقریباً280سے زائد افراد جن کو گھروں میں کورنٹائن کیا گیا تھا اور کسی بھی حالت میں باہر نہ نکلنے کی ہدایات دی گئی تھیں، ان سب لوگوں کو اب اپنے اپنے گھروں سے باہر دوسرے ایک الگ تھلگ مقام پر لے جاکر کورنٹائن کیا جائے گا۔
کورنٹائن کے لئے انجمن کالج ہاسٹل: اس مقصد کے لئے انجمن کالج کا ہاسٹل حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ پتہ چلا ہے کہ تعلیمی ادارے انجمن حامیئ مسلمین کی انتظامیہ کمیٹی نے اپنے کالج کے انجینئرنگ اورایم بی اے طلبہ کے ہاسٹلوں کو مجلس اصلاح و تنظیم کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اب ان کمروں کا استعمال ان لوگوں کی رہائش کے لئے کیا جاسکتا ہے جنہیں ضلع انتظامیہ الگ تھلگ رکھنے (کورنٹائن) کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ اور مجلس اصلاح و تنظیم کے ذمہ داروں کے درمیان بات چیت ہورہی ہے۔
آنے والے کچھ دن فیصلہ کن ہونگے: اس سلسلے میں ذمہ داران کا کہنا ہے کہ تمام لوگوں کو ایک ہی احاطے میں الگ الگ کمروں میں رکھنے سے کھانے پینے اور روزمرہ کی ضروری اشیاء ان لوگوں تک پہنچانے میں آسانی ہوگی۔وہاں پر جو لوگ اپنی خدمات دینے کے لئے آئیں گے انہیں بھی کورنٹائن کا عرصہ پوری طرح مکمل ہونے کے بعد ہی واپس بھیجا جائے گا۔بیرونی ممالک سے آنے والے بیشتر افراد گزشتہ آٹھ دس دنوں سے بیماری کی کسی بھی علامت کے بغیر گزارا ہے۔ اب بقیہ جو دن ہیں، وہ بڑے فیصلہ کن ہیں۔ اس دوران خیریت سے دن گزر گئے تو تشویش کم ہوجائے گی۔کورنٹائن کا جو عرصہ ہے، اسے مکمل حفاظت اوراحتیاط کے ساتھ گزارنے کی ذمہ داری ان سب لوگوں کی ہے۔
مشتبہ مریض ہاسٹل میں منتقل: خبر ملی ہے کہ کوروناوائرس سے متاثرہ جن مریضوں کو نیوی کے پتنجلی ہاسپٹل کاروار میں بھیجا گیا ہے، وہاں پر ڈاکٹر وں کی طرف سے ان مریضوں کی صحت پر پوری طرح نگاہ رکھی جارہی ہے۔ اب ان پوزیٹیو مریضوں کا جن 46افراد سے براہ راست رابطہ ہواتھا ان لوگوں کو مشتبہ زمرے میں رکھتے ہوئے کورنٹائن کرنے کے لئے بھٹکل سرکاری اسپتال کے بی سی ایم ہاسٹل میں منتقل کیا گیا ہے۔ان سب کے لئے آنے والی 10سے 14دن کا عرصہ فیصلہ کن رہے گا۔
طبی معاونین کو تنخواہ نہیں ملی: وبائی مرض پھیلنے کے بعد ہیلتھ اسسٹنٹ اور آشا کارکنان کوگھر گھر جاکر سروے کرنے اور بیرونی ممالک سے لوٹے ہوئے لوگوں کی جانکاری اور ان کی صحت کے بارے میں تفصیلا ت حاصل کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔اور عوام نے بھی دیکھا تھا کہ وہ لوگ شہر بھر میں گھوم پھر کر معلومات حاصل کر رہے تھے۔لیکن پتہ چلا ہے سینئر ہیلتھ اسسٹنٹ کو گزشتہ تین مہینوں سے حکومت نے ماہانہ تنخواہ جاری نہیں کی ہے۔ اس سے فیلڈ میں کام کرنے والا یہ عملہ کچھ مایوس سا ہوگیا ہے۔
عادی شرابی ہوگئے پریشان: ایک طرف لاک ڈاؤن کی وجہ سے عام کھانے پینے کی چیزیں نہ ملنے سے پوراشہر پریشان ہے۔ لیکن دوسری طر ف عادی شرابیوں کو کہیں سے بھی شراب نہ ملنے کی وجہ سے وہ بعض مقامات پر ہنگامہ مچاتے پھر رہے ہیں۔ شراب کی تلاش میں یہاں وہاں دوڑ بھاگ کرتے ہوئے یہ لوگ اکثر و بیشتر خالی ہاتھ واپس لوٹ رہے ہیں اور بعض لوگ چیخ وپکار کرکے اپنا غصہ ظاہر کررہے ہیں تو بعض نے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل فون پر ہی غصہ اتار رہے ہیں ۔