ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 'جس سال پیگاسس جاسوسی شروع ہوئی، اسی سال سائبر ریسرچ کے نام پر بجٹ 33 سے بڑھا کر 333 کروڑ کر دیا گیا، آخر کیوں!'

'جس سال پیگاسس جاسوسی شروع ہوئی، اسی سال سائبر ریسرچ کے نام پر بجٹ 33 سے بڑھا کر 333 کروڑ کر دیا گیا، آخر کیوں!'

Fri, 23 Jul 2021 21:20:01    S.O. News Service

نئی دہلی،23؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس نے حکومت سے پیگاسس جاسوسی اسکینڈل پر ایک اور سوال پوچھا ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ اس واقعہ سے تمام انکشافات ہو رہے ہیں اور اب تک حکومت نے واضح جواب نہیں دیا ہے کہ اس نے پیگاسس سافٹ ویئر خریدا ہے یا نہیں۔ جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کہا، "مختلف وزراء، سابق وزرا جو کہ مختلف زبانوں میں بات کرتے ہیں۔ ہم نے تھوڑی سی تحقیق کی تو اس میں ایک بہت ہی چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے۔ ”انہوں نے کہا کہ جن سالوں میں پیگاسس کی جاسوسی شروع ہوئی تھی، یعنی 2017-18 میں وزارت دخلہ کے تحت قومی سلامتی کونسل سکریٹریٹ کا بجٹ پیش کیا گیا تھا۔ اس میں این ایس سی ایس کا بجٹ 33 کروڑ تھا۔ جسے 333 کروڑ روپے تک بڑھا دیا گیا۔

پون کھیڑا نے کہا کہ اس سکریٹریٹ کا کام انتظامی اور کوآرڈینیشن ہے، جو قومی سلامتی کونسل کو اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔ لیکن 2017-18 میں اس میں ایک نیا شعبہ یا ہیڈ شامل کیا گیا، جسے سائبر سیکورٹی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا نام دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حیرت اس بات کی نہیں ہے کہ اس کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، بلکہ حیرت اس بات کی ہے کہ یہی محکمہ پہلے ہی سے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں موجود ہے اور اس کا الگ سے بجٹ ہے۔ کانگریس کے ترجمان نے یہ سوال پوچھا کہ سائبر سیکورٹی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے نام پر اس میں نیا ہیڈ کیوں شامل کیا گیا اور 33 کروڑ روپئے کے بجٹ کو 333 کروڑ روپے کیوں کر دیا گیا اور وہ بھی اس وقت جب 2017-18 میں جاسوس معاملہ شروع ہوا؟

پون کھیڑا نے کہا کہ "آپ نے دیکھا کہ آئے دن انکشافات ہو رہے ہیں، کبھی صحافیوں، خواتین صحافیوں، سرکاری افسر، سینئر افسران، جو ہماری سی بی آئی کی دیکھ بھال کرتے تھے، سی بی آئی کے ڈائریکٹر تھے اور سی بی آئی میں سینئر افسر تھے۔ حکومت نے اپنے اسپائی ویئر کے ذریعہ ان تمام لوگوں اور ان کے کنبہ کے ممبروں، ان کے اہل خانہ کی خواتین کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ " انہوں نے پوچھا کہ پیگاسس سافٹ ویئر سے جو معلومات حاصل کی جا رہی تھیں؟ وہ کہاں جا رہی تھی؟

کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ سابق انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر عجیب وغریب بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر 45 ممالک میں استعمال ہو رہا تھا، تو پھر صرف ہندوستان کی ہی کیوں بات کی جا رہی ہے۔ پون کھیڑا نے کہا جب کہ موجودہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر کا کہنا ہے کہ "اس کے بارے میں کوئی حقیقت سے آگاہی نہیں ہے، جو ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا تھا، یا جو معلومات اکٹھا کی جارہی تھیں اس کی نگرانی ہوتی ہے۔ وزیر یہ مان رہے ہیں کہ معلومات اکھٹا کی جارہی تھیں۔ کوئی انکار نہیں کرپا رہا ہے۔ "

پون کھیڑا نے کہا کہ "ہم سب جاننا چاہتے ہیں کہ کیا نریندر مودی جی یہ سوچتے ہیں کہ ہندوستان کے صحافی، ہندوستان کی سی بی آئی کے ڈائریکٹر، ہندوستان کی سی بی آئی کے افسران، ہندوستان کے صنعتکار، ہندوستان کے قائد حزب اختلاف، ایکٹویسٹ، کیا یہ تمام دہشت گرد ہیں؟ کیا آپ نے کسی دہشت گرد کو سی بی آئی کا ڈائریکٹر بنا دیا تھا؟ کیا آپ ان پر انسداد دہشت گردی سافٹ ویئر استعمال کر رہے تھے، وہ بھی ایک ایسا سافٹ ویئر جو بیرون ملک سے لایا گیا تھا۔ ملک ایک طویل عرصے سے ان تمام سوالوں کے جوابات کا منتظر ہے، جو انہیں نہیں مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کل فرانس نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا، اسرائیل نے بھی تحقیقات کا حکم دیا، مراکش اور برازیل نے بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، لیکن ہماری حکومت اس معاملے کو التوا میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "حکومت کے مختلف وزراء مختلف بیانات دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم اس پر ایک لفظ بولنے کی ہمت نہیں کر سکیں گے۔ ہم اس آدمی سے کیا توقع کریں گے جو رافیل کے نام سے کانپتا ہو، جو آدمی چین کے نام سے کانپتا ہے۔ لیکن یہ دیکھ کر کہ باقی ملک کیا کر رہے ہیں اور ہمارا ملک کیا کر رہا ہے، شرم سے سر جھک جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ پیگاسس سافٹ ویئر حکومت نے خریدا تھا یا کسی سرکاری ایجنسی نے۔ اور اگر حکومت نے خریدا ہے، تو پھر جس سافٹ ویئر کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے لوگوں پر کیا جانا چاہیے تھا، تو کیا وہ اپنے عہدیداران، اپنے سیاستدان، اپنی پارٹی کے رہنما، صحافی، سماجی کارکن، سپریم کورٹ سے وابستہ لوگوں پر اس سافٹ ویئر کو استعمال کیا گیا؟ اور اگر حکومت نے سے استعمال نہیں کیا ہے، تو پھر اس سافٹ ویئر کو جو صرف حکومتوں کو فروخت ہوتا ہے، یہ کمپنی کا کہنا ہے، ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں۔ پھر کس حکومت نے یہ کیا، مودی حکومت کے دوران ہمارے ملک کے شہریوں کی جاسوسی کس نے کی؟


Share: