ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یونانی پریکٹیس کرنے والے مسلم ڈاکٹروں کی پٹیشن پر ہائی کورٹ میں سماعت نہیں ہوسکی،آئندہ ہفتہ سماعت متوقع

یونانی پریکٹیس کرنے والے مسلم ڈاکٹروں کی پٹیشن پر ہائی کورٹ میں سماعت نہیں ہوسکی،آئندہ ہفتہ سماعت متوقع

Wed, 01 Aug 2018 00:21:21    S.O. News Service

ممبئی، 31جولائی(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) بی یو ایم ایس کے ذریعہ پڑھائی مکمل کرکے طبی خدمات انجام دینے والے مسلم ڈاکٹروں کے ساتھ سوتیلا سلوک کیئے جانے والے مرکزی و مہاراشٹر حکومت کے فیصلہ کے خلاف ڈاکٹروں نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) کے توسط سے ممبئی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کرکے انصاف کی درخواست تھی جس پر گذشتہ ہفتہ ممبئی ہائی کورٹ نے سرکار کو آج اپنے موقف کا اظہار کرنے کا حکم دیا تھا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے آج اس پٹیشن پر سنوائی نہیں ہوسکی اب متوقع ہیکہ اگلے ہفتہ یونانی ڈاکٹروں کی عرضداشت پر سماعت ہوسکتی ہے ۔

ڈاکٹر محمد طارق شیخ اور ڈاکٹر جنید کامران کی جانب سے عرضداشت داخل کی گئی ہے جس پر دو رکنی بینچ کے جسٹس آر ایم بورڈے اور جسٹس وی ایم دیشپانڈے نے مہاراشٹر حکومت کو ایک ہفتہ کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا اور آج پر حتمی بحث ممکن تھی لیکن عدالتی وقت میں پٹیشن کا نمبر نہیں آسکا۔

واضح رہے کہ5؍ جولائی کو ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر (ایچ ڈبلیو سی) اور کمیونیٹی ہیلتھ پرووائڈر(سی ایچ پی) کی 1336 اسامیوں کی بھرتی کے لیئے مرکزی حکومت نے حکومت مہاراشٹر کے توسط سے عریضہ طلب کیئے تھے لیکن اس میں ایک شق یہ لگا دی تھی کہ صرف ایورویدیک (بی اے ایم ایس) کی پریکٹیس کرنے والے ڈاکٹر ہی اس کے اہل ہونگے جس کے خلاف بی یو ایم ایس (یونانی ) پریکٹیس کرنے والے ڈاکٹر جس میں اکثریت مسلم ڈاکٹر وں کی ہے نے بطور احتجاج متعلقہ محکموں سے خط و کتابت کی لیکن مثبت جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں جمعیۃ علماء لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی سے ملاقات کرنے کے بعد حکومت کے اس اقدام کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا گیا ۔

عیاں رہے کہ مسلم ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کی اطلاع ملنے کے بعد ڈاکٹر شیخ خورشید عالم(سابق ممبر ایم سی آئی ایم) کی سربراہی میں ڈاکٹروں کے ایک وفد جسمیں ڈاکٹر اخلاق عثمانی، ڈاکٹر شکیل خان، ڈاکٹر کلیم انصاری، ڈاکٹر فیض صدیقی و دیگر شامل تھے نے گذشتہ ہفتہ جمعیۃ علماء کے ذمہ داران و، سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی وکلاء انصار تنبولی اور شاہد ندیم سے جمعیۃ علماء دفتر میں ملاقات کرکے ان سے اس تعلق سے رہنمائی اور مدد طلب کی تھی جس کے بعد ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔


Share: