منڈگوڈ:23؍اگست(ایس اؤ نیوز) ’بی جے پی کی طرف سے میرے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوئی ہے۔لیکن باہر سے پارٹی میں شامل ہونےو الے روزانہ بے عزتی کررہے ہیں۔حمایتیوں اور کارکنان کی جانب سے سیاست میں سرگرم رہنے پر زور دےرہے ہیں اسی لئے بہت جلد اس سلسلےمیں ایک مضبوط فیصلہ کرنا ہے‘۔ سرکاری ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے صدر وی ایس پاٹل نے بی جے پی سے کانگریس میں شمولیت کو لے کر ہورہی بحث کے متعلق مندرجہ بالا خیالات کا اظہار کیا
وی ایس پاٹل 2008میں تشکیل پانے والے یلاپور حلقہ کے پہلے رکن اسمبلی ہیں، اس کے بعد بی جےپی میں ہی اپنی سیاست کو جاری رکھا ۔ اب وی ایس پاٹل کی کانگریس میں شمولیت کو لےکر پھر ایک بار بحث جاری ہے۔ اس سلسلےمیں وی ایس پاٹل نے اخبارنویسوں کے سامنے وضاحت کرتےہوئےکہاکہ جس ماحول میں رہتے ہوئے سانس پھولنےلگے تو بہتر ہےکہ آپ سیاست چھوڑدیں یا پر سیاسی مقام ومرتبہ کے لئے دوبارہ کسی پارٹی میں شامل ہوجائیں ۔ فی الحال میرے سامنے یہی دو راستے ہونے کی بات کہتےہوئے انہوں نے بہت ہی مضبوط بات کہی کہ سیاسی مقام ومرتبے کےلئے جدوجہد کرنا مجبوری ہے۔
پچھلے چند دنوں سے وی ایس پاٹل اور کانگریس لیڈران کے درمیان ہونے والی گفتگو اب جا کر عوامی سطح پر عام ہوئی ہے۔ اس سے قبل وی پارٹی منتقلی کا انکار کرتےہوئے ایس پاٹل کہتے رہے کہ میں پارٹی چھوڑنے والانہیں ہوں، بی جے پی سے ہی 2024کا انتخاب لڑونگا۔ لیکن ایک ہفتہ سے ان کی باتوں اور آواز میں کافی تبدیلی دیکھی جارہی ہے۔ انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کے سامنے کہہ رہے ہیں کہ اگر کانگریس کی جانب سے ٹکٹ کی تصدیق کی جاتی ہے تو سرکاری ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی صدارت کو استعفیٰ دے کر کانگریس میں شامل ہوجاؤں گا۔
بی جےپی کی اندرونی حالت بھی کچھ اچھی نہیں ہے۔ تعلقہ سطح پربی جے پی کے اصل اورباہر سے آنےو الے کارکنان کی دوریاں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ مقامی اتنظامی اداروں سے لے کر سہکاری سنگھ تک اصل کارکنوں کو نظر انداز کئے جانے کے متعلق کارکنان میں عدم اطمینان پایا جارہاہے۔ پارٹی کارکنان کا کہنا ہے کہ اب جب کہ ودھان سبھا اتنخابات قریب ہیں تو یہ اختلافات مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔
وی ایس پاٹل کی کانگریس میں شمولیت کی باتیں جاری رہتے دیکھ کر بی جے پی کے ریاستی صدر نلین کمار کٹیل اور ریاستی جنرل سکریٹری نےپیر کو فون پر وی ایس پاٹل سے بات کی ہے۔ جس کی خود وی ایس پاٹل نے بھی تصدیق کی ہے۔ اس سلسلے میں وی ایس پاٹل کا کہنا ہے کہ حلقہ میں گذشتہ ڈیڑھ سال سے مجھے اور کارکنان کے ساتھ جو سلوک روا رکھاگیا ہے اس سے بیزار ہوگیا ہوں۔ کس وقت کہاں کہاں اور کس طرح میری بےعزتی کی ہے تفصیل سےبتاؤنگا۔ اس سے پہلے بھی ریاستی لیڈران کو بتانے کی بات کہی۔