ہوناور : یکم اکتوبر(ایس اؤ نیوز)گاؤں کے لئے ہر موسم میں ساتھ دینے والی سڑک ، نالہ پر برج تعمیر کرنے کے عوامی نمائندوں کی یقین دہانی سے بیزارہوناور تعلقہ مہیما دیہات کے لوگ مسئلہ کے حل کے لئے پھر ایک بار احتجاج شروع کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سمیت مختلف وزراء کو خط لکھا ہے۔
ہوناور تعلقہ اُپنّی گرام پنچایت حدود کے مہیما نامی دیہات شہری بنیادی سہولیات سے بہت پچھڑا ہواہے، دیہات میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ لےکر وزیر اعلیٰ ، ضلع نگراں کار وزیر ، محکمہ آب پاشی ، تعلیمات عامہ کے وزرراء ، رکن پارلیمان ، رکن اسمبلی سمیت ڈی سی اور ہوناور تحصیلدار کو خط لکھے گئے ہیں۔
دیہات کی درگت پر دکھڑا سناتےہوئے راجیش نائک نے بتایا کہ دیہات کی خستہ سڑک اور اسکول کے لئے طلبا کو 8کلومیٹر پیدل سفر کرنے کے متعلق اخبارات میں رپورٹ شائع ہوئی تو ودھان سبھا میں اس پر بحث ہوئی اور دیہات کے لئے بس کا انتظام ہوا۔ لیکن سڑک بہت ہی خراب ہونےکی وجہ سے بس کا انتظام رک گیا تو دوبارہ طلبا کو 8کلومیٹر کا سفر طئے کرنا مجبوری ہوگئی ہے۔ دیہات میں قریب 40طلبا ہیں جو تعلیم کے لئے اسکول اور کالج جاتے رہتےہین ان کے لئے بس کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ شام کوطلبا جنگلات سےہوتےہوئے اندھیرے میں گھر لوٹتے ہیں جو کسی بھی خطرے سےخالی نہیں ہے۔ بارش کے موسم میں دیہات کا باہری دنیا سے 6مہینے تک ربط ٹوٹ جاتاہے۔ بارش کے موسم راستے کیچڑ سےبھرے رہتےہیں تو گرمی میں دھول سے نہانا پڑتاہے۔ کسانوں کو اپنی فصل لے جانے کےلئے کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یومیہ مزدوری 350روپئے ہے تو آٹو میں آنےجانےکے لئے اس کو روزانہ 250روپئے خرچ کرنےہونگے۔ حاملہ ، مریضوں وغیرہ کو اسپتال لےجانا ممکن نہیں ہے۔ تو ایسے دیہی عوام زندگی جئیں بھی توکیسے جئیں۔ وزراء، ارکان اسمبلی ، سابق ارکان اسمبلی سمیت کئی ایک عوامی نمائندوں نے دیہات کا دورہ کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ، افسران بھی آکر چلے گئے، لیکن عوامی مطالبات کا حل نہیں ہونے پر عوام نے سخت رنج و افسوس کا اظہارکیا ہے۔