ہوناور،28؍فروری (ایس او نیوز) تعلقہ کے منکی گرام پنچایت کو ریاستی حکومت کے حکم کے مطابق اب ترقی دے کر پٹن پنچایت کا درجہ دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ منکی گرام کا شمار ریاست میں سب سے بڑی گرام پنچایتوں میں ہوتا تھا۔سال 2015 میں منکی کو تقسیم کرتے ہوئے منکی کولدکیری، منکی اے ہلے مٹھ، منکی بی اننت واڈی اور منکی سی چیتّار گرام نام سے چار حصے بنادئے گئے۔ان تمام گرام پنچایتوں کے لئے نئی عمارتیں اور دیگر انتظامی ضروریات کی فراہمی ابھی تک پوری نہیں ہوپائی ہے ، اور ایسی حالت میں اب یہاں کے عوام کوحکومت کی طرف سے پٹن پنچایت کا’ تحفہ ‘دیا گیا ہے۔
اسی بیچ ’پٹن پنچایت‘ کا درجہ دئے جانے پر منکی کے عوام میں حمایت اور مخالفت کی سُر سنائی دے رہی ہیں۔ خاص کرکے سمندری ساحلی علاقے ، گودلکیری اور ہلے مٹھ کے علاقے میں مخالفت دکھائی دے رہی ہے۔کیونکہ پٹن پنچایت بن جانے کے بعد گھروں کے ٹیکس ، پانی بجلی کی شرح میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ گرام پنچایت رہنے کی حالت میں طلبأ کے لئے جو سہولتیں ’دیہی طلبا ٔ‘ کی حیثیت سے ملتی ہیں وہ ختم ہوجاتی ہیں۔دوسری طرف حمایت کرنے والوں کا موقف یہ ہے کہ پٹن پنچایت بن جانے پرسڑکیں ، بجلی ، پانی اور دوسری بنیادی سہولتوں میں بہتری اور اضافہ ہوتا ہے۔
پتہ چلا ہے کہ منکی گرام کو تعلقہ کا درجہ دینے کے لئے سیاسی طور پر جدوجہد جاری تھی ، مگر چونکہ سال 2020-21میں یہاں کی کل آبادی 21228 بنتی ہے اس لئے اس کو تعلقہ کے بجائے پٹن پنچایت کا درجہ دیا گیا ہے۔اس میں منکی گدلکیری اور ہلے مٹھ گرام کا علاقہ پنچایت میں پوری طرح شامل رہے گا۔ جبکہ چیتّار گرام کے اوپلے، نیلگیری، وڈگیری، ششی کوڈل، مونڈار، ہلے سمپال ارلے، کنچی کوڈل اور چیتار مجرے شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ اننت واڈی گرام کے کاسرگیری، اننت واڈی، کوپّدا مکّی، بیدر کیری، ماوین ساگا، انّے بیلو، بھوتن جیڈی، ایلّی مکّی جیڈّی، ماوین کولی، نگر منے، حاجی منے، شیڑی منے اوموڈگوڈ مجرے ا س نوتشکیل شد ہ پٹن پنچایت میں شامل رہیں گے۔
ریاستی حکومت کی طر ف سے گرام پنچایت کو پٹن پنچایت میں بدلنے کا اعلان ہونے پر ہوناور تعلقہ پنچایت کے سابق رکن راجو نائک نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پٹن پنچایت درجے کی مانگ کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ اب توقع ہے کہ یہاں اچھی سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولتیں زیادہ بہتر انداز میں عوام کو دستیاب ہونگی۔
صحافی وینکٹیش میستا نے کہا کہ منکی کے قریب واقع دیگر دیہاتوں کو اس میں شامل کرکے منکی تعلقہ بنادینا سب سے بہتر ہے۔ اسی طرح لیکچرار رکشا نائک نے کہا کہ گرام پنچایت کو پٹن پنچایت میں تبدیل کرنا یہاں کے عوام کے لئے خوشی کا سبب بن گیا ہے۔توقع ہے کہ اس تبدیلی سے عوام کو مزید بہتر سہولتیں دستیاب ہونگی۔