ہلیال:29/اگست (ایس اؤنیوز)اپنے اسکول کے کمروں کو سائیکل ورک شاپ بنائے جانے اور اسکول کے صحن میں سیکڑوں سائیکلیں مہینوں سے رکھنے جانے کی شکایت کرتے ہوئے اسکول طلبا نے تصاویر کے ساتھ واٹس اپ کے ذریعے راست طورپر میڈیا کو خبر دینے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
ہلیال کے کارمل کنڑا ہائی اسکول کے طلبا نے ضلعی کنڑا خبار کراولی منجاؤ کے واٹس اپ نمبر پر اسکول کے ذمہ دار ان اور بلاک ایجوکیشن آفیسر کی بے توجہی کی شکایت کرتے ہوئے تصاویر روانہ کی ہیں۔اسکول کے طلبا نے شکایت کی ہے کہ ہمارے کمروں کو سائیکل ورک شاپ بنایا گیا ہے، اسکول کے صحن میں سیکڑوں سائیکل گذشتہ دو ڈھائی مہینوں سے یوں ہی رکھتے ہوئے ہماری سہولیات سےہمیں محروم کیا جارہاہے، معاملے کو لے کر طلبا نے بلاک ایجوکیشن آفیسر پر الزام لگایا ہے۔
طلبا کی طرف سے دی ہوئی اطلاعات کے مطابق کارمل ہائی اسکول میں قریب 4400طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں، جس میں زیادہ تر طلبا و طالبات پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں،چونکہ ہماری ہائی اسکول کنڑا میڈیم کی ہے شاید اسی لئے بی ای اؤ ہم سے تفریق کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، نچلی منزل میں تعلیم جاری تھی لیکن دو ڈھائی مہینے پہلے پڑھائی ہونے والے کمرے کو بند کرکے پہلی منزل پر منتقل کیا ، اس کے بعد نیچے والے کمرے میں تعلقہ بھر کے طلبا کے لئے مفت میں منظور ہوئیں سائیکل کے ساز و سامان کو رکھتے ہوئے گودام بنایاگیا ہے ، وہیں سائیکل جوڑنے والے مزدوروں کو بھی رہنے کے لئے دیاگیا ہے ، مزدور وہیں کھانا پکاتے ہیں ، ہر دن سائیکلوں کو جوڑ کر ہمارے ہی اسکول کے صحن میں رکھ دیتے ہیں، پچھلے 70-80دنوں سے یہ گیاریج ہمارے اسکول میں چل رہی ہے، نہ صرف ہماری پڑھائی میں خلل ہورہاہے بلکہ ہمیں کھیلنے سے بھی روک دیا گیا ہے، ہمیں پیشاب کے لئے بھی جانے نہیں دیا جاتاہے ، ایک خانگی اسکول میں اس طرح کا ورکشاپ چلانا کتنا صحیح ہے؟ اور اسکول میں ہی طلبا کو تعلیمی سہولیات سے محروم رکھنا کتنا مفید ہے ؟ جیسے چھبتے ہوئے سوالات کے ذریعے طلبا نے اپنی شکایات روانہ کی ہیں۔
طلبا نے لکھا ہے کہ ہم نے یہ شکایت اپنے اساتذہ اور دیگر انتظامیہ کے ذمہ داروں سے کہی ، مگر وہ محکمہ سے خوف کھائے ہوئے لگتے ہیں، ضلع نگراں کاروزیر کے حلقہ و تعلقہ میں ہی دو ڈھائی مہینوں سے سائیکلوں کی تقسیم نہ کرتے ہوئے کھلے بارش پانی اور دھوپ میں رکھ دینا کہاں تک صحیح ہے؟۔ آخر میں طلبا نے ایک ہفتہ کے اندر پورا ورکشاپ منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری تعلیمی سہولیات ہمیں لوٹائیں، اگر ایسا نہیں کیا جاتاہے تو ہم اپنے والدین و سرپرستوں کے ساتھ بی ای اؤ دفتر کے سامنے احتجاج کئے جانے کا انتباہ دیاہے۔