حیدرآباد، 26 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پلوامہ دہشت گرد حملہ میں شہید ہوئے جوانوں کے خاندان کی مدد کے لئے ہر کوئی آگے آ رہا ہے،چاہے وہ بہار کے شیخ پورہ کے ڈی ایم عنایت خان کا سی آرپی ایف جوانوں کی دو بیٹیوں کو گود لینا ہو،یا پھر این آر آئی وویک پٹیل کا امریکہ میں رہ کر 6 کروڑ سے زیادہ کی رقم جمع کرنا ہو لیکن تلنگانہ ہائی کورٹ نے پلوامہ حملہ میں مارے گئے جوانوں کے خاندان کے لئے منفرد طریقے سے مدد کر رہی ہے۔تلنگانہ ہائی کورٹ نے دھوکہ دہی کیس میں پھنسے قصورواروں کو ضمانت دینے کے لئے شرط یہ رکھی ہے کہ وہ 1 لاکھ روپے فوجی ویلفیئر فنڈ کو عطیہ کریں،اس کے بعد ہی انہیں ضمانت دی جائے گی۔
جسٹس بی شیو شنکر رائے نے سن خاندان گروپ کے منتظمین کی ضمانت پر یہ فیصلہ دیا۔سن خاندان گروپ آف کمپنیز کے سی ای او میتھوک رویندر سمیت ان کے ساتھیوں کو دسمبر 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا،ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 14000 انویسٹرس کو قریب 150 کروڑ کا چونا لگایا۔جسٹس رائے کے اس فیصلے سے پہلے انہوں نے شروع میں اس شرط پر عدالت سے ضمانت لی تھی کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں گے،تاہم ان سب کے تفتیش کرنے والے افسران کے ساتھ تعاون نہیں کیا، جس کے بعد عدالت نے ان کی ضمانت رد کر دی تھی۔اسی وجہ سے اس گروپ نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا،جہاں جسٹس رائے نے انہیں یہ فیصلہ سنایا۔