ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیرالا کو امداد کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے سفیر احمدالبنا کی وضاحت

کیرالا کو امداد کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے سفیر احمدالبنا کی وضاحت

Sat, 25 Aug 2018 12:21:20    S.O. News Service

نئی دہلی ،25اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) متحدہ عرب امارات کے سفارت خانہ کے عہدیداروں نے نئی دہلی میں آج بتایا کہ سیلاب زدہ ریاست کیرالا کو مالی امداد کی کوئی مخصوص رقم متحدہ عرب امارات نے طے نہیں کی ہے ۔ریاست کو عطیہ دینے کا کوئی اعلان بھی نہیں کیا گیا۔ سفارت خانہ نے یہ بات ایسے وقت کہی جبکہ ہندوستان میں اس بات پر تنازعہ جاری ہے کہ مرکزی حکومت نے جنوبی ریاست کو بیرونی عطیات قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے سفیر متعینہ ہند احمد البنا نے مالی امداد کا ذکر کئے بغیر کہا کہ ان کی حکومت نے سیلاب زدہ ریاست کیرالا کے عوام کو راحت پہنچانے نیشنل ایمرجنسی کمیٹی قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے کیرالا سیلاب ریلیف کے لئے کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا۔ ہم نے حکومت ہند کو کسی امداد کی جانکاری بھی نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک آئندہ چند دن میں متاثرین سیلاب کی امداد کا منصوبہ ظاہر کرے گا۔

کیرالا کے چیف منسٹر پی وجین نے اسی ہفتہ کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے کیرالا کو 700 کروڑ کی مالی امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ امداد متحدہ عرب امارات کے کیرالا سے خصوصی تعلق کے مدنظر دی جارہی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں لگ بھگ 30 لاکھ ہندوستانی رہتے اور نوکری کرتے ہیں ۔ ان میں 80 فیصد کا تعلق کیرالا سے ہے۔ 18 اگست کو وزیراعظم متحدہ عرب امارات و حکمراں دُبئی شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ٹویٹ کیا تھا کہ ان کے ملک نے کیرالا کے متاثرین سیلاب کی مدد کے لئے کمیٹی قائم کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور ہندوستانی برادری مل جل کر ریلیف فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ ہم سبھی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس پہل میں فراخدلانہ مدد کریں۔

وزارت ِ خارجہ نے واضح کردیا تھا کہ مرکز بیرونی ممالک سے کوئی امداد قبول نہیں کرے گا۔ وزارت نے تاہم کہا تھا کہ این آر آئیز اور پی آئی اوز چاہیں تو پرائم منسٹر ریلیف فنڈ اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں عطیات جمع کراسکتے ہیں۔ سال 2004 میں منموہن سنگھ حکومت نے بھی بیرونی ملکوں سے امداد نہ لینے کا پالیسی فیصلہ کیا تھا۔ اُس وقت سونامی آئی تھی۔ وزارت ِ خارجہ کے یہ کہنے کے بعد کہ بیرونی ممالک سے امداد قبول نہیں کی جائے گی‘ چیف منسٹر کیرالا پی وجین مایوس ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سال 2016 میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی(این ڈی ایم اے) نے تجویزکیا تھا کہ خیرسگالی اقدام کے طورپر دی جانے والی امداد کی پیشکش کو قبول کرلینا چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ ایسی امداد پر مکمل امتناع نہیں ہے۔

وجین نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی سے رجوع ہوں گے۔ بیرونی امداد قبول نہ کرنے مرکز کے اعلان کے بعد ہندوستان میں تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ اپوزیشن اور برسراقتدار جماعت کے قائدین ایک دوسرے پر تنقید کرنے لگے تھے۔ جنوبی ریاست کیرالا میں غیرمعمولی بارش سے کافی تباہی ہوئی ہے۔ ملک کی مختلف ریاستیں متاثرہ ریاست کی مدد کے لئے آگے آئی ہیں۔ مختلف تنظیمیں اور افراد بھی اپنی سطح پر امداد اکٹھا کرکے کیرالا بھیج رہے ہیں۔


Share: