نئی دہلی 12 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) عوامی مقامات پر جنسی تشدد یا استحصال وہ نام ہے، جس سے کوئی بھی عورت لاعلم نہیں؛ کیونکہ اس کا سامنا سینکڑوں۔ہزاروں لڑکیوں کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں کرنا پڑتا ہے ۔ اس بار ایسا ہی ایک واقعہ ملک کے دارالحکومت دہلی میں پیش آیا جس کی مکروہ تصویر سامنے آئی ہے ۔ موصولہ اطلاع کے مطابق دہلی یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے کھچا کھچ بھری ایک بس میں ایسے شخص کی حرکتیں ریکارڈ کیں، جو وہیں اس کے سوا بیٹھ ماسٹربیٹ کر رہا تھا۔ اس طالبہ نے ویڈیو ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا ، جس میں ایک ادھیڑ عمر کا شخص اپنی گود میں ایک بیگ رکھ کر زیادہ تر مسافروں کی نگاہوں سے بچ کر فحش حرکت کرتا نظر آ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ بیٹھی اس طالبہ کووہ حرکت صاف دکھائی دے رہی ہے۔ طالبہ کا الزام ہے کہ 7 فروری کو پیش آئے اس واقعہ کے دوران اس شخص نے اسے چھونے کی بھی کوشش کی تھی۔ اس کی مخالفت کرتے ہوئے وہ طالبہ سونیا فرضی نام زور سے چلائی، لیکن اس واقعہ کا سب سے زیادہ خوفناک پہلو یہ ہے کہ اس کے چیخ پر بھی وہ شخص قطعی نہیں گھبرایا ؛ کیونکہ اس کی مزاحمت او رچیخ و پکار پر کسی نے توجہ نہ دی ۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا، جب بس جنوبی دہلی کے وسنت وہار علاقے میں تھی۔ واقعہ کے فوراََبعدطالبہ بس سے اتر گئی، اور عوامی طور پر فحش حرکت کرنے اور جنسی تشدد کا مقدمہ درج کروانے کے لیے براہِ راست پولیس اسٹیشن پہنچی۔ پیش آئے واقعہ کے تناظر میں خواتین کے تحفظ کو لے کر سوال ایک بار پھر کھڑا ہوگیا ہے ۔ غور طلب ہے کہ سال 2012 میں پیش آئے نربھیا واقعہ نے پوری دلی کو آگ و خو ن کے حوالے کر دیا تھا ؛ لیکن اس کے بعد بھی حکومتی سطح پر اس کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا جو کہ حیرت کی بات ہے ۔ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے کچھ سال پہلے یقین دہانی کرائی تھی؛ لیکن اب تک دہلی کی بسوں میں پولیس کی تعیناتی نہیں ہوئی ہے، اور دارالحکومت میں اب تک CCTV کیمرے بھی نہیں لگائے گئے ہیں۔