بھٹکل ،22؍ اپریل (ایس او نیوز) ہر سال دس ہزار سے زائد بھکتوں کی موجودگی میں منایا جانے والا بھٹکل کا مشہور چن پٹن رتھ اتسوا امسال روایتی شان و شوکت اور جوش و خروش کے بغیر ہی اختتام پزیر ہوا۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال بھی کورونا کی وجہ سے یہ رتھ اتسوا اپنے وقت پر منایا نہیں جا سکا تھا۔
ڈپٹی کمشنر کی طرف سے کووِڈ گائڈ لائنس پر سختی کے ساتھ عمل پیرائی کے احکام جاری ہونے کے بعد پولیس نے مندر کے اطراف میں سخت بندوبست کردیا اور مندر کمیٹی پر واضح کردیا گیا کہ رتھ کو مندر احاطے سے باہرلانے اور بازار سے گزارنے اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ یہ بات اطراف و اکناف اور مضافات میں پہنچادی گئی جس کی وجہ سے ہمیشہ قطار درقطار دیہاتوں سے آنے والے بھکتوں نے اس سال اپنے آپ کو رتھ اتسوا سے دور رکھا۔ اور مندر کمیٹی کی طرف سے تمام تر تیاریوں کے باوجود عین ایک دن پہلے کووِڈ پروٹوکول سخت کیے جانے کی وجہ سے رتھ اتسوا کو مندر کمیٹی اور گنتی کے چند بھکتوں تک ہی محدود کردیا گیا۔ جس کے تحت چند لمحوں کے لئے ہنومان کی مورتی کو گربھ گوڈی سے نکال کر رتھ پر سوار کیا گیا۔ پجاری نے کچھ ضروری رسوم ادا کیے۔ صرف علامتی طور پر ایک پہیہ کے فاصلے تک رتھ کو حرکت دی گئی ۔ اس کے بعد مورتی کو نیچے اتار کر واپس گربھ گوڈی میں بٹھا دیا گیا۔ اس طرح رتھ اتسوا اختتام پزیر ہوا۔
پولیس بندوبست کی نگرانی ڈی وائی ایس پی بیلی اپّا اور سرکل انسپکٹر دیواکر نے کی۔ اس موقع پر رکن اسمبلی سنیل نائک، مندر کمیٹی کے صدر شریدھر موگیر، سریندرا بھٹکل، شریپاد کنچوگار اور شانتا رام وغیرہ موجود تھے۔