ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹکا: فرقہ وارانہ فساد سے متاثرہ مسلم نوجوانوں کی بازآبادکاری اسکیم پڑی رہ گئی سرد خانے میں!

کرناٹکا: فرقہ وارانہ فساد سے متاثرہ مسلم نوجوانوں کی بازآبادکاری اسکیم پڑی رہ گئی سرد خانے میں!

Mon, 09 Mar 2020 20:48:24    S.O. News Service

بنگلورو10/مارچ (ایس او نیوز) سال 2017-18کے بجٹ میں سدارامیا حکومت ایک اسکیم لانچ کی تھی جس کے تحت فرقہ وارانہ فساد سے متاثر ہونے یا فساد کے الزام میں گرفتار ہو نے کے بعد باعزت بری ہونے والے مسلم نوجوانوں باز آباد کاری کے لئے 5لاکھ روپوں تک امدادی قرضہ دیا جا نا تھا، لیکن سیاسی اتھل پتھل کے اس دور میں یہ اسکیم سرد خانے میں جو چلی گئی تو اب تک وہیں پڑی رہ گئی ہے۔

حکومت کے اقتصادی سروے برائے سال 2019-20 کے مطابق اس اسکیم کے لئے 7.5کروڑ روپے مختص کیے جاچکے ہیں، لیکن تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس میں سے ایک پیسہ کا فائدہ بھی کسی بھی شخص کو نہیں ملا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ اس دوران 29فرقہ وارنہ تشدد کے واقعات ہوئے، جس کا شکار ہونے والوں کی تعداد 32ہے۔ 

حیران کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ منگلورو اور جنوبی کینرا میں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوئے، لیکن الال سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر یوٹی قاد ر کا کہنا ہے کہ انہیں اس اسکیم کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔

حالانکہ اس اسکیم کا مقصد فساد، غنڈہ ایکٹ یا دہشت گردی کے الزام میں پھنس جانے اور بعد میں جیل سے باعزت رہا ہوجانے کے بعد اپنی نامکمل تعلیم پوری کرنے یا روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی نیت سے یہ اسکیم متعارف کی گئی تھی۔ لیکن بی جے پی کے سابق اقلیتی امور کے وزیر پربھو چوہان کا کہنا ہے کہ انہیں اس اسکیم کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اورویسے بھی حکومت کا خزانہ بحرانی کیفیت میں ہے۔ لیکن موجودہ اقلیتی بہبود کے وزیر شریمنت پاٹل نے کہا وہ اس اسکیم پر توجہ دیں گے اور اسے جلد لاگو کرنے کی کوشش کریں گے۔

خیال رہے کہ اس اسکیم کے تحت حکومت کی طرف سے امدادی قرضے کے طور پر 5لاکھ روپے تک دئے جائیں گے جس میں سے 50 فیصد سبسیڈی ہوگی اور بقیہ رقم پر سالانہ 3 فیصد سود وصول کیا جائے گا۔


Share: