ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں پولیس والوں کے لئے ہتھیاروں کی کمی۔سی اے جی رپورٹ میں سامنے آئی وزارت داخلہ کی ناکامی

کرناٹک میں پولیس والوں کے لئے ہتھیاروں کی کمی۔سی اے جی رپورٹ میں سامنے آئی وزارت داخلہ کی ناکامی

Mon, 09 Jul 2018 00:38:11    S.O. News Service

کاروار8؍جولائی (ایس او نیوز) مرکزی و ریاستی محکمہ جات کی مالی تحقیقات کرنے والے ادارے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا(سی اے جی) کی ایک رپورٹ میں محکمہ پولیس کے اندر پائی جانے والی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ریاستی وزارت داخلہ کی ناکامیوں کی پول کھول دی گئی ہے۔

سی اے جی کی رپورٹ برائے سال 2016 - 17کے مطابق ریاست کے 18 پولیس تھانوں میں بندوقوں میں استعمال کرنے کے لئے ضروری گولیاں ہی موجود نہیں ہیں۔ اشدضروری ہتھیاروں کی کمی ہے۔ بہت سارے ہتھیار پرانے ہوچکے ہیں اور ان کی مدت استعمال ختم ہوچکی ہے ۔ہتھیارات جمع رکھنے کے لئے مخصوص کمرے نہیں ہیں۔60پولیس اسٹیشن ایسے ہیں جہاں قیدیوں کو رکھنے کے لئے لاک اَپ کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔بہت سے تھانوں میں گواہوں سے پوچھ تاچھ کے لئے کمرے اور بیت الخلا کی سہولت تک دستیاب نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی ناکامی کی وجہ سے افسران غفلت اور بے توجہی کا شکار ہوگئے ہیں جس سے کرناٹک دہشت گردوں، نکسلیوں اور سماج دشمن عناصروں کا اڈہ بنتاجارہا ہے۔محکمۂ پولیس کو تکنیکی اعتبار سے جدید بنانے کی اسکیم پر پوری طرح عمل نہیں ہوا ہے اوراس پر لگا ہوا گہن ابھی چھوٹا نہیں ہے۔ کیونکہ جدید ہتھیارات سے لیس ہونے میں ریاست کرناٹکا کی پولیس ابھی دوسری ریاستوں سے بہت پیچھے ہے۔ہتھیاروں کی اسی کمی کی وجہ سے جرائم اور مجرموں پر قابو پانا پولیس کے لئے ممکن نہیں ہورہا ہے۔ 

رپو رٹ میں اس بات پر بھی اعتراض جتایا گیا ہے کہ بہت سے پولیس تھانوں میں عملے اور سب انسپکٹر تک کوجدید ہتھیار چلانے کی تربیت نہیں دی گئی ہے۔ اے کے 47رائفل موجود رہنے کے باوجود ایس ایل آر (سیلف لوڈنگ رائفل) پستول سے ہی فائرنگ کی مشق کروائی جارہی ہے۔اس سے جدید ہتھیار استعمال کرنے کے لئے پولیس انسپکٹروں کو بھی موقع نہیں مل رہا ہے۔جدید ہتھیار ات کی خریداری نہ ہونے کی وجہ سے بھی پولیس افسران کی تربیت اور جدید کاری ممکن نہیں ہوپارہی ہے۔فائرنگ کی تربیت دینے کے لئے بیلگاوی، ٹمکور اور میسور میں پولیس محکمہ کا اپنا تربیتی میدان نہیں ہے۔ ٹمکور میں اس مقصد کے لئے پانچ ایکڑ زمین حاصل کرنے کے باوجود ایک نجی میدان میں فائرنگ کی مشق کرنے پر اعتراض جتایا گیا ہے۔
سی اے جی کا کہنا ہے کہ نکسل وادی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے ریاست میں14 خصوصی دستے جو تشکیل دیے گئے ہیں اس میں شامل 50 فیصدی افسران کو مخصوص تربیت ہی نہیں دی گئی ہے۔کارکلا میں2.02کروڑ روپے کی لاگت سے مقررہ میعاد کے اندرجنگل کیمپ تعمیر کرنے میں حکومت ناکام رہی ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2011-13سے2016-17کے عرصے میں پولیس محکمے نے ہتھیارات خریدے تو ہیں مگر یہ مقدار ضرورت سے بہت ہی کم ہے۔ ہر پولیس تھانے میں 0.303 ٹریمکیٹیڈ رائفل کی جو کم سے کم ضرورت ہے، وہ بھی پوری نہیں ہے۔اے کے 47 اسالٹ رائفل کی خریدی کے لئے سی آر پی ایف کو سال 2015میں 7.30کروڑ روپے اداکیے گئے تھے لیکن ریاستی محکمہ پولیس کو رائفل فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ ایک سوال یہ بھی اٹھایاگیا ہے کہ ریاستی پولیس کو 400اسالٹ رائفلس کی ضرورت تھی مگر 1200رائفلس کا آرڈر کن اسباب کی بنیاد پر دیا گیا ۔جبکہ ہتھیاروں کے مختلف کل پرزوں کی ضرورت موجود رہنے کے باوجود اس کا آرڈر ہی نہیں دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کے اندرسوجھ بوجھ اور افسران کے بیچ تال میل کی کمی کی وجہ سے توقع کے مطابق محکمہ پولیس کا معیاربلند نہیں ہورہا ہے۔


Share: