بنگلورو،11/دسمبر(ایس او نیوز) کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے ریاست میں خاموشی سے نیشنل رجسٹر آف سٹی زن شپ (این آر سی) کے نفاذ کا کام شروع کردیا ہے۔ ریاست کے وزیر داخلہ ایس آر بومئی نے ریاستی حکومت کی طرف سے این آر سی کے نفاذ کے عمل کی شروعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر پولیس تھانے کی حدود میں مقیم غیر ملکی باشندوں کی نشاندہی کا عمل شروع کرنے کے لئے پولیس حکام کو ہدایت دی گئی ہے اور اس پر کارروائی بھی شروع کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس حکام سے کہا گیا ہے کہ ہر تھانے کی حدود میں غیر ملکی باشندوں کا سروے کر کے یہ تفصیلات حکومت کو روانہ کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ این آر سی کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ غیر ملکی باشندوں کی نشاندہی کرکے انہیں ہندوستان بدر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جو ہندو، سکھ، بدھسٹ، پارسی اور جین غیر قانونی طور پر مقیم ہیں ان کوسکونت اختیار کرنے کے لئے ہندوستان کے علاوہ کوئی اور ملک نہیں ہے اس لئے ان لوگوں کے پاس دستاویزات نہ بھی ہوں تو مرکزی حکومت کی طرف سے لائے جا رہے شہریت ترمیمی بل کے مطابق ان کو ہندوستان کی شہریت دے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے سبھی اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹوں اور پولیس کمشنروں سے کہا گیا ہے کہ ان کی حدود میں آنے والے ہر تھانے کی حدود میں غیر ملکیوں کا سروے فوراً شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلورو میں پہلے ہی 63بنگلہ دیشی اور 16نائجیریائی باشندوں کو ملک بدر کرنے کی کارروائی کی جا چکی ہے۔ بسوارج بومئی نے کہا کہ این آر سی ایک قومی پالیسی معاملہ ہے۔مرکزی حکومت یہ چاہتی ہے کہ ملک بھر میں غیر ملکی در اندازوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کو ملک سے نکالا جائے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاستی حکومت مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق کرناٹک میں بھی این آر سی کے عمل کو نافذ کرے گی۔ اس سوال پر کہ ریاست میں غیر ملکی دراندازوں کی تعداد کیا ہوسکتی ہے جواب دیا کہ اب تک ریاست میں غیر قانونی طور پر مقیم بیرون ملکی باشندوں کی نشاندہی کے لئے باضابطہ کوئی سروے نہیں ہوا ہے اس لئے ان کی تعداد کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے۔