ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کرناٹک حجاب معاملہ؛ ریاستی وزیر آر اشوک کو حجاب معاملے کے پیچھے نظر آیا آئی ایس آئی اور دیگر بیرونی تنظیموں کا ہاتھ

کرناٹک حجاب معاملہ؛ ریاستی وزیر آر اشوک کو حجاب معاملے کے پیچھے نظر آیا آئی ایس آئی اور دیگر بیرونی تنظیموں کا ہاتھ

Sat, 19 Feb 2022 18:12:07    S.O. News Service

اُڈپی:19؍ فروری (ایس اؤ نیوز) حجاب کی تائید اور حمایت میں جو طالبات احتجاج کررہی ہیں اس میں ان  طالبات کی کوئی غلطی نہیں ہے بلکہ اس  احتجاج کے پیچھے  آئی ایس آئی ، کے ایف ڈی اور دیگر بیرونی ممالک کی سازش کارفرما ہے۔ ان خیالات کا اظہار  ریاستی وزیر آر اشوک نے کیا۔

 اُڈپی ضلع کے کارکلا میں اخبارنویسوں سے بات کرتےہوئے  انہوں نے کہاکہ اُڈپی سے شروع ہونے والا حجاب کا یہ معاملہ  پوری  دنیا میں اتنی تیزی کے ساتھ  کیسے پھیلا ، اتنی تیزرفتاری کے ساتھ سب کچھ  کیسے ہوا، اس کے پیچھے کون کام کررہاہے؟ کیا  ان بچوں نے حجاب معاملے کو دنیا بھرمیں پھیلایا ؟  اس کے پیچھے آئی  ایس  آئی اور کے ایف ڈی جیسی تنظیموں کا ہاتھ  ہے۔

آر اشوک کے مطابق  بچے اسکولوں  میں  تعلیم حاصل کرنےکے لئے جاتےہیں ، مذہب کی تبلیغ کے لئے نہیں جاتے ۔کوئی بھی مذہب ہو ، اسکول کو مذہب کی تبلیغ کے لئے نہیں جاتے ۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ  تم اپنے گھر میں جو چاہو کرو لیکن  کالج اور اسکول  میں  جانا ہو تو  صرف تعلیم حاصل کرنے کےلئے  جائو۔

حجاب معاملہ کی چھان بین   ہم اپنے طور پر کررہے ہیں۔ اس سلسلےمیں میں نے وزیر اعلیٰ کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  حجاب کے پیچھے چھپے ظالموں اور دہشت گردوں کو بے نقاب کرنا ضروری  ہے۔

یاد رہے کہ اُڈپی کی سرکاری ویمنس کالج  میں   28 ڈسمبر کو سب سے پہلے   باحجاب طالبات کو  کلاسس میں جانے سے روکنے کا معاملہ پیش آیا تھا، پھر  اچانک  3 فروری کو کنداپور سرکاری کالج میں  باحجاب طالبات کے لئے کالج کا گیٹ بندکردیا گیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ پورے ملک کی میڈیا میں چھا گیا تھا۔ ایک طرف   ریاست کے بی جے پی وزراء  اس بات پرزور دے رہے تھے کہ  کالجوں میں پہلے سے ہی حجاب پر پابندی عائد تھی اور اچانک اب مسلم طالبات نے حجاب پہن کر کالج آنا شروع کیا تھا، حالانکہ اس بات سے ہرکوئی واقف ہے کہ مسلم طالبات  ہائی اسکولوں سے ہی  باحجاب کلاسس میں حاضر ہوتی رہی ہیں۔ 

بتاتے چلیں کہ   کالجوں میں حجاب پر پابندی کا  معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ کالج طالبات کی طرف سے  حجاب پر  پابندی کو غیر آئیننی اور غیر دستوری قرار دیتے ہوئے دلائل پیش کئے جاچکے ہیں ،  جس کے بعد  جمعہ کو  ایڈوکیٹ جنرل نے   حجاب پر پابندی عائد کرنے کی حمایت میں  سرکار ی دلائل پیش کئے تھے جس کا سلسلہ اگلی شنوائی کو یعنی 21 فروری بروز پیر کو بھی جاری رہے گی۔


Share: