لکھنو، 29دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے نوئیڈا میں پارک میں نماز پڑھے جانے پر پابندی لگنے کا مسئلہ اب بھی گرم ہے۔آج جمعہ ہے اس لحاظ سے نوئیڈا میں سیکورٹی کے سخت انتظام کئے گئے ہیں تو وہیں اترپردیش کانگریس کے لیڈر سپورانند نے ڈی جی پی کو خط لکھ کرریاست میں لگنے والی آر ایس ایس کی شاخوں پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الگ الگ قوانین کیوں بنائے جارہے ہیں۔ کانگریس کے سپورانند کا کہنا ہے کہ جب کھلے میں نماز پر پابندی لگا دی گئی ہے، تو یہی اصول آر ایس ایس کی شاخ پر نافذ کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔اس طرح کا حکم دینا مکمل طور پر غیر ضروری ہے۔دراصل 25 دسمبر کے دن یہ معاملہ اچانک بحث میںآیا۔جب نوئیڈا کے سیکٹر 58 میں مقامی لوگوں کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے لوگوں کو نماز پڑھنے سے روک دیا تھا۔آج نماز جمعہ کی وجہ سے انتظامیہ نے پھر وہاں پر سیکورٹی بڑھا دی تھی۔انتظامیہ نے لوگوں کو جمع ہونے سے پہلے ہی پارک میں پانی بھردیا تاکہ کوئی نماز نہ پڑھ سکے۔اتنا ہی نہیں اس پارک کے ارد گرد پولیس بھی تعینات کی گئی ہے۔غور طلب ہے کہ گزشتہ 19 دسمبر کو یہاں نماز پڑھ رہے دو لوگوں کو پولیس نے گرفتار بھی کیا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ یہ زبردستی نماز پڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔اس مسئلے نے سیاسی طول بھی پکڑا تھا۔سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی نے اس معاملے پر ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی پر نشانہ لگایا تھا۔اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا تھا کہ لوک سبھا انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لئے اس قسم کی سازشیں رچی جارہی ہیں۔