کاسرگوڈ:25/مارچ(ایس اؤ نیوز) پرانی چُری نامی دیہات میں پیر کی رات مدرسہ استاد کا بربریت کے ساتھ کئے گئے قتل معاملے میں پولس کی خصوصی ٹیم نے 3ملزموں کو گرفتار کرنےمیں کامیابی حاصل کی ہے۔
ملزموں کی شناخت کاسرگوڈ ،کیلوگوڈے کے ایس نتین راؤ(18)، سنکوڈلو کے این اکھلیش (25)اور کیلوگوڈے ائیپانگر کے اجیش عرف اپو(20) کی حیثیت سے کیگئی ہے۔ ملزموں سے قتل کے لئے استعمال کئے گئے ہتھیار اور بائک کو ضبط کرلیا گیاہے۔ ملزموں کو جمعہ کی شام عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں 14دنوں تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ 20مارچ کی رات مڈکیری کے مولوی ریاض کا بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا تھا۔
مدرسہ استاد ریاض کے قتل کو لے کر پورے ملک میں تشویش کا اظہار کیا جارہاتھا، قتل کے ذریعے کاسرگوڈ ضلع میں فرقہ وارانہ فسادات پیدا کرنے کی سازش رچنے کی رپورٹ کو ریاستی وزارت داخلہ نے سنجیدگی سے لیتے ہوئے ملزموں کی گرفتاری کے لئے سخت احکامات جاری کئے تھے، قتل کے دوسرے دن سے ہی آئی جی پی کی سرپرستی میں کنّور کرائم برانچ کے ایس پی اے شری نواس کی قیادت میں خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ ٹیم نے صرف تین دنوں میں ملزموں کا پتہ لگا کر کامیاب ہونے سے عوام نے پولس محکمہ کی ستائش کی ہے۔
کاسرگود کے نواحی علاقہ تالیپڈومیں ملزمان نتین راؤ، اکھلیش اور اجیش نے مدرسہ استاد ریاض کے قتل کامنصوبہ تشکیل دیا تھا۔ 20مارچ کو تینوں ملزمان تالپیڈو کے میدان میں یکجا ہوئے تھے، بینک ملازم اکھلیش کام ختم کرکے لوٹتے ہوئے گانجہ اور شراب کی بوتلیں ساتھ لایا تھا۔ دیر رات تک ملزمان وہیں قیام کرتے ہوئے کسی کے قتل کا منصوبہ تیار کرنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ اجیش قتل کی نیت سے ہاتھ میں ہتھیار تھام کر کیلوگوڈ تک پیدل گیاتھا، نتیش اور اکھلیش بائک کے ذریعے اس کے پیچھے تھے۔ اجیش چھپ چھپا کر مسجد کے صحن میں گھس گیا نتیش بھی پتھروں کو لے کر صحن میں گیا ، اتنے میں آواز بلند ہوتے ہی مولوی ریاض اپنے کمرے کا دروازہ کھولا ، اسی دوران ایک ساتھ اجیش ہتھیار کے ساتھ اندر گھس کر ریاض استاد پر قاتلانہ حملہ کیا ہے ، چیخ پکار سن کر دوسرے کمرے میں موجود مسجد کے خطیب عبدالعزیز بیدار ہوکر اپنے کمرے کا دروازہ کھولا تو نتین نے ان پر پتھراؤ کیا ، اس کے بعد ملزمان بائک کے ذریعے وہاں سے فرارہونے کی اطلاع پولس ذرائع نے دی ہے۔ وہاں سے سیدھے کیلوگوڈے آنگن واڑی پہنچے ملزمان ٹینک میں موجود پانی سے اپنے کپڑوں کے خون کے دھبوں کو دھو کر اکھلیش گھر لوٹ گیا ہے ، گھروالوں نے پوچھا تو اکھلیش نے بتایا کہ انتخابات کے دوران درج ہوئے ایک معاملے میں میرے نام وارنٹ جاری ہواتھا پولس مجھے ڈھونڈ رہی ہے، اسی لئے ان سے بچ کر آنے کے کہانی سنائی ۔رات وہیں گزار کر نتین اور اجیش صبح میں وہاں سے لوٹ گئے۔ قتل کی رات اکھلیش کے گھر میں قیام کرنے کے بعد اجیش اور نتین کیلوگوڈے کے ایک شیڈ میں چھپ کر بیٹھ گئے، البتہ کھانے پینے کے لئے بہت ہی خفیہ طریقے سے گھر جایا کرتے تھے، لیکن اکھلیش بینک کے کام کو جاتا رہا۔ اسی دوران مقامی لوگوں نے روزانہ مزدوری کے لئے جانے والے اجیش اور نتین لاپتہ ہونے پر شبہ جتایا، مقامی عوام نے خصوصی جانچ ٹیم کو اس کی اطلاع دی ، یہی سراغ ملزمان کی گرفتاری کے لئے اہم کڑی ثابت ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔
مولوی ریاض کے قتل کے ذریعے پورے ضلع میں فرقہ وارانہ فسادات کو پیدا کرنے کی سازش ہونے کی پولس ذرائع نے خبر دی ہے۔ قتل کے ملزمان چوری کئے گئے بائک کا استعمال کرتے ہوئے 18مارچ کی دیررات میپو گری میں شٹل بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کے میدان پر بئیر کی بوتلوں کو پھینکا تھا، جس کی وجہ سے وہاں گروہی تصادم بھی ہواتھا، اسی دوران پتھراؤمیں پھنس کر نتین نے اپنے دو دانت توڑ لئے تھے۔ اسی کا بدلہ لینے کے لئے کسی کاقتل کرکے فسادات برپا کرنےکی سازش رچی تھی ۔ سازش کے تحت 20مارچ کی رات کیلوگوڈے علاقہ میں پلان ڈال کر بیٹھے ہوئے تھے کوئی نہیں ملنے پر مسجد کے صحن میں گھس کر معصوم مولوی ریاض کا قتل کرنے کی بات پولس نے بتائی ہے۔