ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار:ضلع کی 662مندروں نے سالانہ آڈیٹ رپورٹ نہیں سونپی :نئی کمیٹیوں کو پرانی کمیٹیاں اقتدار منتقل کرنے تیار نہیں

کاروار:ضلع کی 662مندروں نے سالانہ آڈیٹ رپورٹ نہیں سونپی :نئی کمیٹیوں کو پرانی کمیٹیاں اقتدار منتقل کرنے تیار نہیں

Fri, 16 Jun 2017 22:22:43    S.O. News Service

کاروار:16/جون (ایس اؤنیوز)ریاستی حکومت کے مجرائی محکمہ کے زیر نگرانی والے ضلع کے 662مندروں میں سے کسی مندر انتظامیہ نے اصول وضوابط کے مطابق اپنی سالانہ آمدنی اور بجٹ محکمہ کو نہیں سونپاہے، انہی وجوہات کی بنا انتظامیہ کمیٹی کی تشکیل کے لئے قدم اٹھایا گیا ہے، مندر کمیٹی اور انتظامیہ کمیٹی کے درمیان رسہ کشی شروع ہوگئی ہے ، مندر کمیٹی تشکیل کو لے کر بنواسی اور کمٹہ کانچیکا مندر کی پرانی انتظامیہ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری میں ہیں۔

ضلع سے شائع ہونے والے کنڑا روزنامہ کے فرنٹ پیچ پر شائع ہوئی رپورٹ کے مطابق کرناٹکا ہندو دھارمک ادارے قانون ترمیم 2011کی دفعہ 35،36،37اور 38کے تحت مجرائی محکمہ کو ہر مندر کو اپنی سالانہ آمدنی اور بجٹ پیش کرنا لازمی ہے۔ اپنی آڈیٹ رپورٹ کے ساتھ سالانہ آمدنی کا 10فی صد حصہ حکومت کو اداکرنا ہے ۔ لیکن ضلع کے 662مندروں میں سے کسی مندر نے بھی ابھی اصول کے مطابق رپورٹ نہیں سونپنے کی اطلاع محکمہ کے افسران سے دی ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر سرکار مندر وں کے لئے انتظامیہ کمیٹی تشکیل دے رہی ہے، ضلع میں بی گریڈ کے 3مندروں کے لئے اب تک کمیٹیوں کی تشکیل کی جاچکی ہے۔ بی گریڈ کے 4اور سی گریڈ کے 8منادر کی کمیٹیوں کو تشکیل دینے کاکام جاری ہے۔ مندروں کی سالانہ آمدنی کےتحت اے ، بی اور سی گریڈ کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے۔ ضلع میں سالانہ 25لاکھ روپیوں سے زیادہ آمدنی والے اے گریڈ کے 6مندر، 10لاکھ روپیوں سے زائداور25لاکھ روپیوں سے کم آمدنی والے بی گریڈکے 9مندر اور 10لاکھ روپیوں سے کم آمدنی والے سی گریڈکی 647 مندریں ہونے کی اطلاعا ت موصول ہوئی ہیں۔

سرکاری کی طرف سے مندر کی دیکھ بھال کے لئے تشکیل دی جانےو الی کمیٹیوں کے خلاف پرانی کمیٹیوں کے ممبران سخت ناراض ہیں، ضلع کچھ مندریں اپنا کام ٹھیک ٹھاک کرنے کے بعد بھی کمیٹی بنانے پر اعترا ض جتایا ہے۔ سرکاری قانون کے خلاف اتراکنڑا ضلع دھارمک مہا منڈل ہائی کورٹ میں رٹ داخل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تو سرکارنے ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف سرپم کورٹ میں رٹ داخل کی ہے جہاں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی جاری کیاہے۔

معاملے کے سلسلے میں اترکنڑا ضلع ڈپٹی کمشنر اور ضلع دھارمک پریشد کے صدر ایس ایس نکول نے کہا ہے کہ ضلع کی ایک بھی مندر نے ابھی تک اپنی سالانہ رپورٹ نہیں سونپی ہے، بھگتوں کی طرف سے بھگوان کے لئے جو تحفے تحائف، عطیہ جات ادا کئے جاتے ہیں ان کا صحیح استعمال ہونا چاہئے، ان کا غلط استعمال نہ ہو۔ مندر انتظامیہ کی نگرانی کے خلاف جب شکایتیں موصول ہونے معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی انہی منادر کے لئے کمیٹیاں تشکیل دئیے جانے کی بات کہی۔

 


Share: