ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار : زمین کی آر ٹی سی حاصل کرنے میں دشواریاں - 1 سال گزرنے کے بعد بھی حل نہیں ہوا ہے مسئلہ

کاروار : زمین کی آر ٹی سی حاصل کرنے میں دشواریاں - 1 سال گزرنے کے بعد بھی حل نہیں ہوا ہے مسئلہ

Wed, 27 Apr 2022 15:07:04    S.O. News Service

کاروار،27؍ اپریل (ایس او نیوز) سرکاری محکمہ جات کے کام کو کمپیوٹرائزیشن اور ڈیجیٹل سطح پر لانے اور روزبروز اس سمت میں ترقی ہونے کے باوجود عام لوگوں  کی تکالیف اور دشواریوں میں   اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ جس میں سرورservor  ڈاون ہونا، انٹرنیٹ کام نہ کرنا جیسے مسائل عام ہیں ۔ 

مثال کے طور پر گزشتہ ایک سال سے یہاں عوام کو اپنی رجسٹر کی گئی زمین کی آر ٹی سی حاصل کرنے میں بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اور اس کا سبب محکمہ ریوینیو اور رجسٹریشن محکمہ میں آپسی تال میل کا فقدان بتایا جارہا ہے ۔

جبکہ آر ٹی سی حاصل کرنے میں پیش آنے والی دشواری کو اپنے افسران کی کوتاہی ماننے کے بجائے اسے  ٹیکنیکل خرابی کہہ کر پلّہ جھاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ محکمہ ریوینیو   کے آفسران  کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ   ایپ "کاویری"  کام نہیں کررہا ہے تو وہیں دوسری طرف  محکمہ رجسٹریشن اپنے ایپ "بھومی" میں ٹیکنیکل خرابی ہونے کی بات کہتے ہیں ۔ ان دونوں محکمہ جات کی غیر ذمہ دارانہ روش سے عام آدمی کو مشکلات سے گزرنا پڑ رہا ہے ۔ 

حکومت کو زیادہ سے زیادہ آمدنی دلانے والے محکمہ جات میں  رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ بھی شامل ہے ۔ اور اسی محکمہ کی طرف سے ٹیکنیکل خرابی کا سبب بتاتے ہوئے لوگوں کو اپنی آر ٹی سی کی سافٹ کاپی پانے کے لئے ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر لگانے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ اور یہ معاملہ گزشتہ ایک سال سے حل نہیں ہورہا ہے ۔

رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے افسران کہتے ہیں کہ 'بھومی' ایپ کے ذریعے دستاویزات بنگلورو کو بھیجے جاتے ہیں ۔ لیکن وہ دستاویزات آن لائن ذریعہ سے تحصیلدار دفتر تک نہیں پہنچتے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں محکمہ جات میں تال میل نہیں ہے  اور اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ خاص کرکے کاروار، انکولہ اور کمٹہ وغیرہ میں یہ مسئلہ بہت زیادہ سامنے آ رہا ہے ۔ 

ڈپٹی کمشنر مولئی موہیلن نے بتایا کہ اس معاملہ میں متعلقہ "بھومی" شعبہ کے عملہ اور رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے افسران کے ساتھ بات چیت کرکے جتنی جلد ممکن ہوگا اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں گے ۔ 


Share: