الہ آباد،29؍ اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) مذہبی منافرت اور فساد بھڑکانے کے الزام میں متھرا جیل میں بند ڈاکٹر کفیل احمد خان کی ضمانت عرضی پر الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے - دو دنوں تک چلی طویل بحث کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس ایس ڈی سنگھ کی بنچ نے ڈاکٹر کفیل کی رہائی پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا - ڈاکٹر کفیل کی والدہ نزہت پروین کی طرف سے داخل عرضی پر الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنی سماعت مکمل کر لی ہے - عرضی میں ڈاکٹر کفیل خان پر این ایس اے لگائے جانے اور ان کو جیل میں بند کئے جانے کے یو پی حکومت کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے -الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ اور ڈاکٹر کفیل خان کے وکیل نذرالاسلام جعفری کے مطابق ڈاکٹر کفیل احمد پر این ایس اے لگائے جانے کے معاملہ میں ہائی کورٹ میں سماعت مکمل ہو گئی ہے -
ضمانت عرضی پر اب عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے - واضح رہے کہ ڈاکٹر کفیل خان پر علی گڑھ میں شہریت تر میمی قانون کے خلاف عوامی جلسہ کرنے اور مجمع کو مشتعل کرنے کا الزام ہے - ڈاکٹر کفیل خان کو گزشتہ 29جنوری کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا تھا - ریاستی پولیس ان کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر یو پی لائی تھی - ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ153اے کے تحت ایف آئی درج کی گئی ہے -دو دنوں تک چلی طویل بحث کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس ایس ڈی سنگھ کی بنچ نے ڈاکٹر کفیل کی رہائی پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا -گرچہ ڈاکٹر کفیل کی ضمانت متھرا کی ضلع عدالت سے منظور کر لی گئی تھی - تاہم متھرا جیل انتظامیہ نے ڈاکٹر کفیل خان کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا - اس کے دو دن بعد ہی ریاستی حکومت نے ڈاکٹر کفیل خان پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ لگا دیا تھا - این ایس اے لگائے جانے کے خلاف ڈاکٹر کفیل نے پہلے سپریم کو رٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا - لیکن سپریم کورٹ نے ڈاکٹر کفیل کو الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تھا - اس کے بعد ڈاکٹر کفیل نے الہ آباد ہائی کورٹ میں این ایس اے لگائے جانے کے خلاف عرضی داخل کی تھی -قابل ذکر ہے کہ اس پہلے2017میں گورکھپور کے بی آر ڈی اسپتال میں دماغی بخار سے بچوں کی اموات کے معاملہ میں ڈاکٹر کفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا - کئی مہینے جیل میں رہنے کے بعد25/ اپریل2018کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ڈاکٹر کفیل خان کو ضمانت مل گئی تھی - ڈاکٹر کفیل کی دوبارہ گرفتاری اور ان پر این ایس اے لگائے جانے کے خلاف یوپی میں کانگریس سمیت کئی مقامی پارٹیوں، سماجی تنظیموں اور کارکنوں کی طرف سے سوشیل میڈیا پر مہم بھی چلائی جا رہی ہے-