وارانسی،27؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے لوک سبھا انتخاب2019سخت امتحان بنتا جا رہا ہے- پورے ملک میں بی جے پی کے خلاف ماحول تو پیدا ہو ہی چکا ہے، اب خود ان کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں کچھ ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں جسے دیکھ کر بی جے پی کارکن پریشان ہیں - اس خبر سے پی ایم مودی کی نیندیں بھی اڑ گئی ہوں گی کہ وارانسی میں 100 سے زائد سبکدوش یا برخاست فوجیوں نے ڈیرا ڈال دیا ہے اور انھیں شکست دینے کے لئے تحریک شروع کر دی ہے-دراصل یہ فوجی پی ایم نریندر مودی کی پالیسیوں اور فوج کے تعلق سے ان کے فیصلوں پر ناراض ہیں اور فیصلہ کیا ہے کہ وہ مودی مخالف ہوا بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے- ان فوجیوں کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی فوج کو کمزور کر رہے ہیں اور فوج میں بدعنوانی کو فروغ دے رہے ہیں - یہ سبھی جوان وارانسی کے مڈواڈیہہ علاقے میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور فیصلہ کیا ہے کہ خراب کھانے کی شکایت کرنے کے بعد برخاست کئے گئے بی ایس ایف جوان تیج بہادر کی حمایت میں مہم چلائیں گے- قابل غور ہے کہ تیج بہادر وارانسی پارلیمانی حلقہ سے بطور آزاد امیدوار کھڑے ہوئے ہیں اور پی ایم مودی کو شکست دینے کے لئے پرعزم ہیں - تیج بہادر کا کہنا ہے کہ ”میں سچا چوکیدار ہوں اور فرضی چوکیدار کے خلاف لڑ رہا ہوں -“دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ایم مودی دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے فوج کو فخر کا موقع میسر کرایا ہے لیکن فوجی تیج بہادر ہی ان کے جھوٹ سے پردہ فاش کرنے کے لئے تحریک چلا رہے ہیں اور الیکشن میں ان کے لئے مشکلیں پیدا کر رہے ہیں - پی ایم مودی اپنے دور اقتدار میں پاکستان میں گھس کر حملہ کرنے کی بات کہتے ہوئے ووٹ مانگ رہے ہیں، لیکن اس بات پر سابق فوجی سربراہ سمیت کئی سبکدوش فوجی صدر جمہوریہ سے شکایت بھی کر چکے ہیں - مودی کے سرجیکل اسٹرائک سے سابق اور معطل کئے گئے فوجی ان کے خلاف ہیں -بہر حال، وارانسی میں پی ایم مودی کے خلاف انتخابی تشہیر کر رہے معطل فوجیوں کی شکایت ہے کہ وہ اپنے بڑے افسر کی غلط کاریوں کے خلاف آواز اٹھانے اور بدعنوانی کی مخالفت کرنے کی قیمت ادا کر رہے ہیں - وہ یہ تحریک چلا رہے ہیں کیونکہ حکومت نے بدعنوان افسروں کے خلاف ان کی شکایتوں کو نظر انداز کیا ہے-سی آر پی ایف سے سسپنڈ کئے گئے32سالہ پنکج مشرا کہتے ہیں ”فوجیوں کی طرف سے کم از کم4000شکایتیں دی گئی ہیں - ان میں افسروں کی طرف سے اپنے گھروں پر چھوٹے چھوٹے کام کرنے پر مجبور کئے جانے سے متعلق بھی کئی شکایتیں ہیں - یہ سبھی شکایتیں گزشتہ تین سال سے پی ایم او میں پینڈنگ پڑی ہیں -‘