نئی دہلی،27؍جنوری (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ تین زرعی قوانین کو واپس لینے کو مطالبے کو لیکر دہلی میں کسانوں کے ٹریکٹر ریالی میں ہوئی افراتفری کو قابو کرنے میں ناکام ہوئی پولیس اور مرکزی حکومت کے کردار پر کئی سوالیہ نشان لگتے ہیں۔
ان سارے واقعات کیلئے بی جے پی حکومت ذمہ دار ہے جو کسانوں کے مطالبات کو نظر انداز کرہی ہے اور بے نتیجہ بات چیت اور بے بنیاد الزام لگا کر کسانوں کو بدنام کررہی ہے۔ ایسے حالات میں ایس ڈی پی آئی کسانوں کی تحریک اور ان کے احتجاج کی مکمل حمایت کا اظہا رکرتی ہے۔ 26فروری کو ہوئے کسانوں کے ٹریکٹر ریلی کے دوران اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز اقدامات نے کسانوں کو ناراض کیا ہے۔ کسان جو گزشتہ دو ماہ سے پرا من طور پر دھرنے پر تھے اور پر امن طریقے سے پریڈ کرر ہے تھے، تاہم، پولیس کی جانب سے کسانوں پر جارحیت اور غیر ضروری لاٹھی چارج کے ساتھ آنسو گیس کا استعمال اور کچھ شاہراہوں پر پریڈ کرنے کی اجازت سے انکار کی وجہ سے انتشار کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔
ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سارے صورتحال نے متعدد شکوک وشبہات کو جنم دیا ہے کہ کچھ شرپسند گروہ اس پریڈ میں گھس کرکے اس ریلی کو پر تشدد بنانے اور کسانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایس ڈی پی آئی ایک بار پھر مرکزی بی جے پی حکومت کو تینوں زرعی قوانین کو غیر مشروط طور پر واپس لینے اور بغیر وقت ضائع کیے کسانوں کے مطالبات کو پورے کرنے کی تاکید کرتی ہے۔