بھٹکل:12/نومبر (ایس او نیوز) بڑے نوٹوں کو کالعدم قرار دینے سے جہاں عوام حیران و پریشان ہیں، قومی بینک مصروفیت سے تنگ آرہے ہیں تو کوآپریٹیو سوسائٹیاں اور معاشی ادارے اپنا کاروبار تقریباً بند کردینے در پے ہیں۔ دیہی عوام عام طورپر کوآپریٹیو معاشی اداروں سے زیادہ تر معاملات طے کرنے کی وجہ سے دیہی عوام مکمل طور پر خالی ہاتھ نظر آرہے ہیں۔
تعلقہ کے زیادہ تر عوام کوآپریٹیو سوسائٹیوں کے ذریعے قرضہ جات لے کر اپنے کاروبار اور دیگر معاملات کو نپاٹتے رہے ہیں۔ پگمی کے ذریعے معاشی اداروں میں رقم جمع کرنے اور اپنے قرضہ جات کو اداکرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ لیکن ریزرو بینک کے ضوابط کی وجہ سے پگمی ایجنٹ حضرات 500اور1000 روپئے کے نوٹ لینے تیار نہیں ہیں۔ متعلقہ سوسائٹیوں میں سونے پر قرضہ لئے ہویے قرض داروں پر یہ آفت بھی آن پڑی ہے کہ وہ گرہن رکھے ہوئے زیورات کو فوری طورپر لے بھی نہیں سکتے ۔ حالات یہ ہیں کہ گاہک سوسائٹیوں میں پہنچ کر عملے کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ ان معاشی اداروں کی اورایک خصوصیت یہ ہے کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دان ہی زیادہ تر ڈائرکٹر اور صدر و نائب صدر کے عہدوں پر فائزہیں، ان کی طرف سے جہاں تہاں دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس رویہ سے سوسائٹی کے مینجر اور دیگر عملہ حیران اور پریشان ہیں۔ بھٹکل اربن بینک، کے ڈی سی سی بھٹکل شاخ کے علاوہ بقیہ 8زرعی اور 16غیر زرعی معاشی سوسائٹیاں اسٹیٹ بینک کے کلیرنگ ممبران نہ ہونے کی وجہ سے راست طورپر رقم منتقل نہیں ہورہی ہے۔ یہ تمام سوسائیٹیاں کے ڈی سی سی بینک پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ کے ڈی سی سی بینک میں ان سوسائٹیوں کے اکاؤنٹس کو صرف ایک گاہک کے اکاؤنٹ کی طرح ماناجاتاہے۔ کے ڈی سی سی بینک سے 10ہزارروپیوں سے زائد رقم لے نہیں سکتے ۔
متعلقہ سوسائٹیوں کے مینجر اور عملہ اس بات کو لے کر خوف زدہ ہے کہ جب 30دسمبر کے بعد جب آربی آئی متعلقہ سوسائٹیوں کے لین دین کی جانچ شروع کرے گی تو مینجر اور عملہ ہی پھنسے گا، بہترہے کہ کسی معاملے کو انجام نہ دیتے ہوئے اپنی جگہ خاموش رہیں۔ اور دفتر میں حاضری دینے کے بجائے ادھر ادھر گھومتے رہیں۔ فی الحال تمام سوسائٹیوں کے اکاؤنٹ بلاک کردئیے گئے ہیں۔ آربی آئی کی طرف سے ہری جھنڈی دکھانے کے بعد ہی کچھ آگے بڑھنے کے آثار ہیں۔
بتایا جارہاہے کہ آربی آئی کی فہرست میں ضلع میں بڑے پیمانے پر معاشی معاملات کو انجام دینے والی کے ڈی سی سی بینک کانام ہی نہیں تھا۔ فہرست میں نام درج نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہوئے صدر، ڈائرکٹرس ، مینجروغیرہ آربی آئی کووضاحت دینے کے بعد ہی آربی آئی نے نئے نوٹ جاری کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔