میرٹھ،10؍اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی) عید الاضحی سے عین قبل میرٹھ شہر میں سڑکوں پر نماز کی ادائیگی پر روک لگا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سڑک پر لگنے والی جانوروں کی پینٹھ (بازار) پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ پابندی نقل و حمل کے متاثر ہونے کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔میرٹھ پولیس کپتان کے اقدام کی شہر قاضی زین الساجدین نے حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز پر کسی طرح کی روک نہ لگائی جائے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق شہر قاضی کی تجویز کو انتظامیہ کی طرف سے منظور کر لیا گیا ہے۔ یوگی حکومت کے اس اقدام کے حوالہ سے مسلمانوں میں مخلوط تاثرات نظر آ رہے ہیں۔ حالانکہ، شہر قاضی نے خصوصی اپیل جاری کر کے کہا کہ مسلمان سڑکوں پر نماز جمعہ نہ پڑھیں اور انتظامیہ کا تعاون کریں۔میرٹھ کے گولا کنواں کے رہائشی محمد انور کے مطابق ”انتظامیہ کے اس قدم سے میرٹھ شہر میں آنے والے مسافروں، رشہ پولروں اور تاجروں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دراصل جمعہ کے دن سڑک پر موجود مسجد میں نماز ادا کرنے میں انہیں آسانی ہوتی ہے اور جب نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے تو مجبوراً صفیں باہر تک بچھانی پڑ جاتی ہیں۔“نماز کے لئے جگہ کم پڑ جانے کے بعد لوگوں کے دوسری ان مسجدوں کی طرف رْخ کیا جو محلوں اور گلیوں میں موجود ہیں۔ لیکن دوسری مسجدوں کی طرف رْخ کرنے کے دوران کئی لوگ نماز جمعہ کے خطبہ اور جماعت میں شرکت نہیں کر سکے۔ واضح رہے کہ گلی اور محلوں کی مسجدوں پر پولیس اہلکار کی زیادہ تعداد موجود نہیں تھی۔قبل ازیں میرٹھ کے ایس ایس پی اجے ساہنی نے حکم جاری کیا کہ سڑکوں پر نماز کی پابندی کی اگر خلاف ورزی کی گئی تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ قبل ازیں میرٹھ پولیس نے ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے 20 اونٹوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ ایس ایس پی نے کہا ہے کہ ان اونٹوں کی عید الاضحیٰ پر قربانی دی جانے والی تھی اس لئے کارروائی کر کے انہیں اپنے قبضے میں لیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ سڑک پر نماز پڑھنے کے خلاف ہندو تنظیمیں کافی وقت سے محاذ کھولے ہوئی ہیں۔ نماز کی مخالفت میں ریاست کے کئی شہروں میں سڑک پر ہنومان چالیسہ اور آرتی کی جا چکی ہے۔ ایسے حالات میں کوئی تنازعہ نہ ہو اس کے پیش نظر انتظامیہ اقدام لے رہی ہے۔ اس سے پہلے علی گڑھ میں بھی سڑکوں پر نماز پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔