ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی بولتے بہت ہیں کرتے کچھ نہیں : وزیراعلیٰ سدرامیا

مودی بولتے بہت ہیں کرتے کچھ نہیں : وزیراعلیٰ سدرامیا

Sat, 05 May 2018 12:16:20    S.O. News Service

بنگلورو،4؍مئی(ایس او نیوز) وزیراعلیٰ سدرامیانے وزیراعظم نریندر مودی پر اپنی نکتہ چینیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہاہے کہ مودی بولتے بہت ہیں مگر کرتے کچھ نہیں ۔ پچھلے سال سالوں سے وہ صرف اپنے من کی باتیں لوگوں کو سنارہے ہیں جس میں ایک بھی کام کی بات نہیں ہے۔

اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ریاست میں مودی کی پندرہ نہیں سو ریلیاں بھی ہوجائیں تب بھی اقتدار پر کانگریس ہی آئے گی ، اس میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہونا چاہئے۔ سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا سے پہلے مودی کی ہمدردی اور بعد میں جنتادل (ایس) کو ووٹ نہ دینے عوام سے اپیل کے متعلق وزیراعلیٰ نے کہا کہ مودی یہ طے نہیں کرپارہے ہیں کرناٹک میں کانگریس کے مضبوط قوت کا مقابلہ کس طرح کیا جائے ، اسی لئے ایسی باتیں کہہ رہے ہیں جو غالباً ان کی سمجھ میں بھی نہیں آرہی ہیں۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں مودی کے بیان کی یاددہانی کراتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ مودی نے سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کو سیاست سے سنیاس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے ان سے کہاتھا کہ وہ کسی بزرگوں کے گھر ٹھہر جائیں ، اب ان کے متعلق بیان پر ان سے ہمدردی ظاہر کرنے نکل پڑے ہیں۔ مودی کو بزرگوں سے اگر اتنی ہی ہمدردی ہے تو اپنے سیاسی گرو اڈوانی سے اس ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔

سدرامیا نے کہاکہ اس بات پر انہیں مسرت ہے کہ مودی نے خود کو کنڑیگا قرار دیا ہے، اب کنڑیگا ہونے کے ناطے ان کی ذمہ داری ہے کہ کاویری اور مہادائی کے معاملے میں کرناٹک سے انصاف یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ پانچ سال بی جے پی جب ریاست کے اقتدار پر رہی تو ریاستی عوام کے لئے اس نے کیا کیا ہے؟ مودی اس کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کریں۔ مودی کو اگر کنڑیگا ہونے پر فخر ہے تو سب سے پہلے کنڑا پرچم کو منظوری دیں۔ ریاست کے دیرینہ تنازعات کو سلجھانے کے لئے وہ کرناٹک کے طرف داری کریں۔ کانگریس پر خاندانی سیاست کو بڑھاوا دینے کا الزام لگانے پر سدرامیا نے جواب دیا کہ بی جے پی میں ایسے بہت سارے قائدین ہیں جو سیاست کو اپنی وراثت سمجھتے ہیں۔ مودی اگر یہ سلسلہ ختم کرنا چاہتے ہیں تو بی جے پی سے شروع کریں۔ لنگایت طبقے کو الگ مذہب کا درجہ دینے ریاستی حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ حکومت نے یہ فیصلہ اپنے طور پر نہیں کیا بلکہ لنگایت طبقے کی مانگ پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ ریاست میں کانگریس کی ایس ڈی پی آئی سے مفاہمت سے متعلق سدرامیا نے کہاکہ کسی پارٹی سے کانگریس نے کوئی مفاہمت نہیں کی ہے۔ 


Share: