نئی دہلی،16/اکتوبر(ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے بدھ کو کہا کہ وہ ان احکامات کو پیش کرے جن کی بنیاد پر ریاست میں مواصلاتی نظام پر پابندی عائد ہے۔جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کے زیادہ تر دفعات منسوخ کرنے کے بعد ریاست میں یہ پابندی لگائی گئی تھی۔جموں و کشمیر میں آمدورفت پر پابندی اور مواصلات کے بندہونے کے معاملے سے متعلق عرضی پر سماعت کر رہی عدالت عظمی نے ریاستی انتظامیہ سے سوال کیا کہ اس نے مواصلاتی نظام پر پابندی عائد کرنے سے متعلق حکم اور نوٹیفیکیشن اس کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا۔ جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے جسٹس این وی رمن کی صدارت والی بنچ سے کہا کہ وہ ان پابندیوں سے متعلق انتظامی احکامات صرف بنچ کے مطالعہ کے لئے عدالت میں پیش کریں گے۔ بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس بی آر گوئی شامل ہیں۔مہتا نے بنچ نے کہاکہ ہم انہیں سپریم کورٹ کے سامنے پیش کریں گے۔ قومی مفاد میں لئے گئے انتظامی فیصلوں کی اپیل پر کوئی نہیں بیٹھ سکتا۔ صرف عدالت ہی اسے دیکھ سکتی ہے اور درخواست گزار یقینا اسے نہیں دیکھ سکتے۔مہتا نے بنچ کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں مواصلات پر عائد پابندیوں سے متعلق حالات میں تبدیلی آئی ہے اور وہ اس معاملے میں تازہ معلومات دیتے ہوئے ایک حلف نامہ دائر کریں گے۔ بنچ نے جب وادی میں موبائل خدمات بحال ہونے کی میڈیا رپورٹس کا ذکر کیا تو ایک درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ صرف پوسٹ پیڈ موبائل چل رہے ہیں لیکن حکام نے منگل کو ایس ایم ایس کی خدمات بند کردی تھا۔