منگلورو :۲۰/تمبر (ایس او نیوز) ریاستی حکومت یونیورسٹیوں میں جاری فرقہ پرستی کے نام پر ہونے والے ظلم کو برداشت نہیں کرے گی اس کی روک تھام کے لئے سخت قوانین بنائے جائیں گے۔ ہماری سرکار ریاست کے بھلائی اور ترقی کے ساتھ ساتھ عوام میں یک جہتی اور بھائی چارگی چاہتی ہے، حالیہ دنوں میں دھن دولت کی ہوس کے نتیجےمیں اچھے اچھے تعلیم یافتہ لوگوں میں اخلاق کا فقدان ہے۔ تعلیمی ادارے نظم و ضبط کے ساتھ معیاری تعلیم دینے کی کوشش کرنےکا خیال ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم بسورا ج رائے ریڈی نے ظاہر کیا۔
وہ یہاں کوناجے کے بیاریس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں ’’سائنس اینڈ ٹکنالوجی انٹر پرنر پارک کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔دکشن کنڑا ضلع نگراں کار وزیر رماناتھ رائی نے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں سے کہاکہ وہ فرقہ پرست تنظیموں کو اپنے ہاں جگہ نہ دیں، فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنے کے لئے اور ایک فرقہ پرست تنظیم کا قیام اچھی بات نہیں ہے،معاشرے میں ایمانداری نہیں ہے ، لیکن اس کے باوجود بہت ہی کم تعداد میں جو ایماندار ہیں ان کو پہچان کر عزت افزائی کام ہونا ہے۔
ریاستی وزیر برائے اجناس یوٹی قادر نے اپنے خطاب میں کہاکہ طلبا تعلیم یافتہ ہوکر عقل مند، بااخلاق اور حساس ہونے کا شعور پیدا کریں۔ بی آئی ٹی میں طلبا کی چوطرفہ اور ہمہ جہت ترقی کے لئے بہترین مواقع میسر ہیں، طلبا ان کابھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنے مستقبل روشن کرنے کی بات قادر نے کہی۔ بیاریس تعلیمی اداروں کے صدر سید محمد بیاری نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ 110سالوں سے کس طرح بیاریس تعلیمی ادارے ترقی پائے ان کی تفصیلات پیش کیں۔ بیاریس تعلیمی اداروں کے ڈائرکٹر حاجی ماسٹر محمود، سہیادری تعلیمی ادارے کے صدر منجوناتھ بھنڈاری ، بی آئی ٹی کے صلاح کار ڈاکٹر ایس کے رائیکر ، ڈاکٹر عزیز مصطفیٰ ، بیڈس کالج کے ڈین محمد نثار وغیرہ موجود تھے۔ پرنسپال ڈاکٹر عبدالکریم نے استقبال کیا تو پروفیسر مصطفیٰ بستی کوڑی نے شکریہ اداکیا۔ فہمیہ نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔