منگلورو:۱۶/ستمبر (ایس او نیوز)مینگلور یونیورسٹی کے لیڈیس ٹوائلٹ میں رکھے گئے خفیہ کیمرہ معاملے میں ملزم سنتوش کو ضمانت ملتے ہی یونیورسٹی طالبات کے والدین اور سرپرست تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اس معاملے میں پولس ہوں کہ یونیورسٹی عملہ ہو لب کھولنے کے لئے تیار نہیں ہے، معاملے کو دبا کو ملزم کو بچانے کی کوشش کئے جانے کی ایک طالبہ کے والدین نے شکایت کی ہے۔
والدین کے مطابق کیمرہ میں طالبات کی تصویریں قید ہوئی ہیں یا نہیں اس تعلق سے افسران الجھن کا شکار ہیں اور پیچیدگی کی باتیں کہہ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہمارے بچوں کے مستقبل کو لے کرہم پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اور چند ایک نے الزام لگایا ہے کہ نوجوان طالبات کی تصویریں قید کرکے بلیک میل کرنے کا مقصد بھی ممکن ہے۔ کچھ لوگوں نے شبہ جتایا ہے کہ نوجوان کے پاس قید کئے ہوئے کچھ اور تصویریں بھی ہوسکتی ہیں۔ لیکن پولس نے ملزم پر بہت ہی کمزور مقدمات درج کرکے دوسرے ہی دن ضمانت پر رہا ہونے کی سہولت فراہم کی ہے۔ ملزم جیل سے باہر آنے کے بعد تصویروں کا غلط استعمال کرنے کے متعلق بھی تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔
بتایا جارہاہے کہ دکشن کنڑا ضلع کی ایک بااثر سیاسی شخصیت نے دباؤ ڈالا ہے کہ نوجوان کے خلاف سخت کارروائی نہ کی جائے، اسی بات کا لحاظ رکھتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پولس عملہ کام کررہا ہے، طالبات کے والدین نے دھمکی دی ہے کہ اگرپولس اس معاملے میں سخت کارروائی نہیں کرتی ہے تو یونیورسٹی کے سامنے ہی احتجاج کرنا پڑے گا۔
والدین اور سرپرست سوال اٹھا رہے ہیں کہ آج ہمارے بچے جس صورت حال سے دوچار ہیں اگر پولس افسران اور سیاست دانوں کے بچے بھی شامل ہوتے تو کیا وہ خاموش رہتے ؟انہوں نے بتایا کہ ملزم کو آسانی سے ضمانت ملنے سے ایسے مزید معاملات کو انجام دینے کے لئے راہ آسان ہوگئی ہے۔