بنگلورو 18/؍مارچ(ایس او نیوز) وزیرداخلہ رام لنگا ریڈی نے بتایا کہ منگلورو کے ایک پَب میں پارٹی کے دوران نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر حملہ کرنے والے ملزمین کو عدالت سے بری کیے جانے کے خلاف حکومت ہائی کورٹ میں اپیل کرنے پر غور کررہی ہے۔
وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کے دوران اخباری نمائندوں کو بتایا کہ حکومت اس ضمن میں ایڈوکیٹ جنرل سے مشورے کے بعد ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرے گی۔یاد رہے کہ نوجوانوں پر یہ حملہ 2008میں بالمٹّا میں واقع’ایمنیشیا دی لانج‘نامی پَب میں ہوا تھا اور ملکی سطح پر اخباروں کی سرخیوں میں آگیا تھا۔ حملے کے ملزمین میں سری رام سینا کے چیف پرمود متالک کا نام بھی شامل تھا۔ لیکن منگلورو سیکنڈ جے ایم ایف سی کورٹ نے ناکافی شواہدکی بنیاد پر تمام 26ملزمین کو اس معاملے سے بری کردیا تھا۔
ملزمین کے بری کیے جانے کے بعد یہ باتیں سامنے آئی ہیں کہ ایک طرف استغاثہ نے اس کیس کو مضبوط کرنے کے لئے پوری طرح کوشش نہیں کی۔ دوسری طرف متاثرہ لڑکوں یا لڑکیوں میں سے کسی ایک نے بھی کیس داخل کرنے یا عدالت میں گواہی دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ حالانکہ دو لڑکیاں اس حملے میں زخمی بھی ہوگئی تھیں۔اس کے علاوہ حملے کا ویڈیو فوٹیج سوشیل میڈیا اور دیگر ویب سائٹس پر عام ہوگیا تھا مگر پراسیکیوشن نے اس فوٹیج کویا دیگر فوٹو گرافس کو عدالت میں بطورثبوت پیش ہی نہیں کیا ۔یہاں تک کہ جن گواہوں کو استغاثہ نے ملزمین کے خلاف پیش کیاتھا انہوں نے بھی عدالت میں ان ملزمین کو پہچاننے سے انکار کردیا اور کہا کہ حملہ ہوا تھا یہ سچ ہے ،لیکن کس نے کیا تھا یہ ہم پہچان نہیں سکے۔
لہٰذا جے ایم ایف سی کورٹ کے جج آر منجوناتھ نے تمام ملزمین کو بری کرتے ہوئے کہا کہ لڑکوں اور لڑکیوں پر حملے کا معاملہ ثابت کرنے میں استغاثہ پوری طرح ناکام رہا ہے۔