منڈگوڈ:28/مارچ(ایس اؤنیوز)ریزرو بینک آف انڈیا کی ہدایات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سرکاری اسکیموں کے تحت ایس سی /ایس ٹی اہل مستفیدین کو قرضہ منظور نہ کرنے والے قومی بینکوں کے مینجرس کے خلاف کارروائی کی مانگ لے کر کرناٹکا دلت سنگھرش سمیتی کی ضلع شاخ نے احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ ، ریزروبینک آف انڈیا، ایڈیشنل آئی جی پی اورشہری حقوق کمیشن کے نام تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کیا۔
میمورنڈم میں سمیتی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سرکار ایس سی /ایس ٹی کی فلاح وبہبودی کی خاطر اور ترقی کے مقاصد لے کر اپنی مختلف اسکیموں کے تحت معاشی امداد منظور کرتی ہے۔ لیکن قومی بینک اہل مستفیدین کو قرضہ منظور کئے بغیر انہیں ہراساں کرتے رہتے ہیں اور قرضہ منظوری سے انکار کرتے ہیں۔ بینک مینجرس اور علاقائی افسران خواتین اہل مستفیدین کی بے عزتی کرتے ہیں، سرکاری اور آر بی آئی کی ہدایات کو واضح طورپر ٹھکرانے والے بینک مینجرس کے خلاف ایس سی /ایس ٹی استحصال قانون کے تحت کارروائی کی مانگ کی گئی ہے۔ اسی طرح 13مار چ کو ایس بی آئی منڈگوڈ شاخ کے مینجر یوراج کلال کے خلاف دی گئی شکایت کو درج کرلینے کی مانگ لے کر احتجاجیوں نے کچھ دیر کے لئے منڈگوڈ پولس تھانے کے روبرو دھرنا دیا۔

سرکاریں مختلف منصوبہ جات کے تحت کئی اسکیموں کو جاری کرتے ہوئے ہزاروں کروڑ روپیہ منظور کرتی ہیں تاکہ معاشی امداد کے ذریعے روزگار، تجارت وغیرہ کرتے ہوئے ترقی پائیں۔ اس کے مطابق اہل اسامیوں سے عرضیاں لے کر منظور کرکے بینکوں کو سفارش بھی کر تی ہیں ، لیکن بینک مینجرس بے وجہ3سے 6ماہ تک ہراساں کرنے کے بعد قرضہ منظوری سے انکار کردیتے ہیں۔ اور بعض دفعہ عرضیاں مارچ کے اواخر میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ منظور نہ ہوسکیں ۔ کیونکہ 31مارچ کو معاشی سال کااختتام ہوجاتاہے۔ ایس سی /ایس ٹی قانون کے تحت جان بوجھ کر سرکاری اسکیموں میں پسماندہ طبقات کو قرضہ منظور نہ کرتے ہوئے انہیں ہراساں کیا جاتاہے وہ قانوناً جرم ہے، اسی کے تحت بینک مینجر اور آفیسران پر کارروائی کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ اس موقع پر دلت سنگھرش سمیتی کے ضلع سنچالک ایس پکیرپا ، بسوراج ہلمنور، پی ایس دانپنور، ہنومنت ایل میتری ، بسوراج ہریجن، بسونت مڈلی ، گروناتھ ایم میتری ، راگھویندرا ہریجن، ہنومنت کٹی منی، ناگراج ماڈلی، بھاسکر بھوی ، امام صاحب سدی سمیت ڈی ایس ایس کے بےشمار کارکنان موجود تھے۔