نئی دہلی، یکم جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں مختلف ریاستوں کے 45 ایسے اضلاع ہیں جہاں اب بھی جواہر نوودی ودیالیہ نہیں ہیں۔فروغ انسانی وسائل کے وزیر رمیش پوکھریال نشنک نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں یہ معلومات دی۔نشنک نے کہا کہ دیہی علاقوں کے ذہین بچوں کو بہتر تعلیم دینے کے لئے ان 45 اضلاع میں نوودی ودیالیہ کھولے جائیں گے۔ان میں یہ اصول جاری رہے گا کہ ہر نوودی ودیالیہ کی 75 فیصد نشستیں دیہی علاقوں کے ذہین بچوں سے ہی بھری جائیں گی۔فروغ انسانی وسائل کے وزیر رمیش پوکھریال نشنک نے بتایا کہ نوودی ودیالیہ کھولنا ایک مسلسل عمل ہے،اسے کھولنے کا فیصلہ ریاستی حکومت کے ہاتھ میں ہوتا ہے،اگر ریاستی حکومت نوودی ودیالیہ کھولنا چاہتی ہے تو اسے مفت میں زمین دینی ہوگی، تاکہ اس پر اسکول کی عمارت بن سکے۔جب تک مستقل عمارت نہیں بن جاتی تب تک دوسری مفت عارضی عمارت مہیا کرانی ہوگی تاکہ اس میں اسکول چل سکے،اگرچہ ان 45 اضلاع میں نوودیودیالیہ کھولنے کی ابھی کوئی تاریخ طے نہیں ہے۔جیسے جیسے زمینیں ملتی جائیں گی اور ریاستی حکومتیں خواہش ظاہر کریں گی، ویسے ویسے نوودیودیالیہ کھلتے جائیں گے۔نوودیودیالیہ حکومت ہند کے فروغ انسانی وسائل کی وزارت کی طرف سے چلائی جانے والی مکمل طور پر رہائشی، تعلیم، مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ، نئی دہلی سے ملحق تعلیم منصوبہ ہے۔قومی تعلیمی پالیسی 1986 کے تحت ایسے رہائشی اسکولوں کا تصور کیا گیا، جنہیں جواہر نوودی ودیالیہ کا نام دیا گیا، جو بہترین دیہی قابلیت کو آگے لائیں گے۔اس کا اہم مقصد گاؤں گاؤں تک بہترین تعلیم پہنچانا ہے۔یہ اسکول مکمل طور رہائشی اور مفت ہوتے ہیں۔یہاں طلبہ کو مفت رہائش، کھانا، تدریسی مواد، تعلیم اور کھیل کود مواد دیا جاتا ہے۔ابھی نوودی ودیالیہ 27 ریاستوں اور 7 مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں چل رہے ہیں۔داخلے کیلئے کلاس 5 کے طلبہ کے لئے داخلہ امتحان ہوتا ہے،ہر ضلع سے 80 طالب علموں کو منتخب کیاجاتا ہے،ان میں 75 فیصد دیہی اور 25 فیصد شہری بچوں کو داخل کیا جاتا ہے۔