نئی دہلی 28/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) یوپی کی کیرانہ سیٹ سیاسی جماعتوں کے لئے کافی اہم ہیں کیونکہ یہاں بی جے پی کے خلاف اپوزیشن متحد ہے. یہ دونوں فریقوں کے لئے عزت کا سوال بنی ہوئی ہے. ایسے میں پارٹیاں ہر ایک پہلو پر باریکی سے نظر رکھ رہی ہیں.
پیر کی صبح ووٹنگ کے دوران کئی بوتھوں سے ای وی ایم میں گڑبڑی کی شکایتیں ملیں تو اپوزیشن خیمے کے رہنما سرگرم ہو گئے. کئی پولنگ بوتھوں پر ای وی ایم کام نہیں کرنے کی خبریں آئی . اس پر کیرانہ لوک سبھا سیٹ سے آر ایل ڈی کی اُمیدوار تبسم حسن نے الیکشن کمیشن سے شکایت درج کرائی ہے.
سماج وادی پارٹی کے لیڈر راجندر چودھری نے اس تعلق سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نورپور میں 140 ای وی ایم مشینیں خراب ہوئی ہیں، ان کے مطابق ان مشینوں کے خراب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان مشینوں میں گڑبڑی کی گئی تھی. اسی طرح کی رپورٹیں کیرانہ سے بھی آ رہی ہیں۔ راجندر چودھری کے مطابق وہ (بی جےپی) چاہتی ہے کہ پھول پور اور گورکھپور میں ہوئی شکست کا بدلہ لیا جاسکے اور کسی بھی قیمت میں ہمیں شکست دیا جاسکے۔
وہیں آر ایل ڈی کی اُمیدوار تبسم نے اپنا ووٹ دینے کے بعد الزام لگایا کہ ہر جگہ ای وی ایم کی ٹمپرنگ ہوئی ہے۔ مسلم اور دلت اکثریتی علاقوں میں ای وی ایم کو تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔ ٹویٹ کرتے ہوئے تبسم نے کہا کہ وہ (بی جےپی) ایسی ہی حرکت کرکے جیت درج کرسکتی ہیں، ورنہ وہ جیت نہیں سکتے۔
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ٹویٹ کر تے ہوئے کہا کہ شاملی، کیرانہ، گنگوہ، نكوڈ، تھانابھون اور نورپور کے تقریبا 175 پولنگ بوتھوں سے ای وی ایم - وي وی پیڈ مشینوں کے خراب ہونے کی شکایت فوری طور پر سنی جائے. ' انہوں نے مزید لکھا کہ ضمنی انتخابات میں جگہ جگہ سے ای وی ایم کے خراب ہونے کی خبریں آ رہی ہیں، پھر بھی عوام اپنی حق رائے دہی کے لئے ضرور جائیں اور اپنا فرض نبھائیں.
کیرانہ میں ایک بار پھر بی جے پی اور اپوزیشن اتحاد آمنے سامنے ہے. پھول پور اور گورکھپور سیٹوں پر شکست کے بعد بی جے پی کی نظر اس سیٹ کو جیتنے پر ہے. کیرانہ لوک سبھا انتخابات کے میدان میں بھلے ہی 13 اُمیدوار میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں، لیکن اہم مقابلہ دو امیدواروں کے درمیان ہی ہے. اس میں بنیادی طور پر بی جے پی امیدوار مورگانكا سنگھ اور راشٹریہ لوک دل کی تبسم حسن کے درمیان ہے۔
وہیں مہاراشٹر کے پالگھر میں بی جے پی اور شیوسینا آمنے سامنے ہیں.
اسمبلی کی 10 سیٹوں پر پولنگ
لوک سبھا کے علاوہ الگ الگ ریاستوں میں اسمبلی کی بھی 10 سیٹوں پر ضمنی انتخابات کے لئے ووٹنگ ہوئی ہے. ان میں کرناٹک کی راج راجیشوری، کیرالہ کی چینگانور کے علاوہ پنجاب کی شاہ کوٹ سیٹ، اتر پردیش کی نورپور، مہاراشٹرا کی پلس كادیگائوں، بہار کی جوكيهٹ، جھارکھنڈ کی گوميا اور صلّی، میگھالیہ کی انپیت ، اتراکھنڈ کی تھرالي اور مغربی بنگال کی مہیشتلا سیٹ پر انتخابات ہوئے ہیں
کہاں کون ہے میدان میں
اتراکھنڈ کے تھرالي اسمبلی ضمنی انتخابات کے لیے بی جے پی اور کانگریس کے ساتھ ساتھ علاقائی پارٹیاں اتراکھنڈ کرانتی دل نے بھی مہم میں پوری طاقت جھونکی ہے۔ بی جے پی کے مگن لال شاہ کی موت کی وجہ سے خالی ہوئی تھرالي اسمبلی سیٹ حکمراں پارٹی کی ساکھ کے ساتھ جڑی ہے. بی جے پی نے اس سیٹ سے مگن لال شاہ کی بیوی منی دیوی کو میدان میں اُتارا ہے، جبکہ کانگریس نے سابق ممبر اسمبلی جيت رام پر داؤ لگایا ہے.
مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کی ہیشتلا اسمبلی سیٹ سابق ممبر اسمبلی کستوری داس کے انتقال سے خالی ہوئی تھی. یہاں سے ترنمول کانگریس نے کستوری داس کے شوہر دولال داس کو امیدوار بنایا ہے. بائیں محاذ کی جانب سے پربھات چودھری میدان میں ہیں جبکہ بی جے پی نے سوجیت گھوش کو میدان میں اتارا ہے.
اسی طرح مہاراشٹر کی دو لوک سبھا سیٹوں پالگھر اور بھنڈارا-گونڈيا پر بھی ضمنی انتخابات کے لئے ووٹنگ جاری ہے. جبکہ ناگالینڈ میں ایک لوک سبھا سیٹ پر ووٹنگ ہو رہی ہے.