ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مسلم اقامتی اسکولوں کو انگریزی میڈیم میں تبدیل کرنے کی بجائے پی یو سی اُردو میڈیم کیا جائے: سی ایم ابراہیم

مسلم اقامتی اسکولوں کو انگریزی میڈیم میں تبدیل کرنے کی بجائے پی یو سی اُردو میڈیم کیا جائے: سی ایم ابراہیم

Wed, 07 Oct 2020 14:03:37    S.O. News Service

وجئے پور،7؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سرکاری مسلم اقامتی اسکولوں سے اُردو میڈیم کو ہٹا کر انگریزی میڈیم میں تبدیل کئے جانے کی پیش قدمی پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر و رکن کونسل سی ایم ابراہیم نے بتایا کہ ریاست میں 1995-96ء میں اس وقت کی حکومت خصوصی طور پر ایچ ڈی دیوے گوڈا کو حضرت خواجہ غریب نواز ٹرسٹ قائم کرکے انہوں نے ریاست کے پانچ ڈیویژنوں میں منعقد علاقوں کے اولیائے کرام کے نام سے اقامتی اسکولوں کو اردو زبان کے فروغ اور اردو طلبا وطالبات کے ڈراپ آؤٹ پر قابو پانے کی غرض سے ان اسکولوں میں اردو میڈیم چھٹی تا میٹرک شروع کیا گیا۔ اس اثناء میں تمام اسکول محکمہ اقلیتی بہبود کوسونپ دئے گئے پھر بھی وہ بہتر طریقے سے چلتے رہے، مگر اب ان اسکولوں سے اردو میڈیم نکال کر انگریزی میڈیم میں تبدیل کرنا کوئی دانائی نہیں ہے جبکہ ان اردو میڈیم اقامتی اسکولوں کو اپ گریڈ کرتے ہوئے پی یو سی اردو میڈیم شروع کرناناگزیر بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب یہ اسکول بہتر ترقی سے اردو میڈیم میں چل رہے ہیں تو محکمہ اقلیتی بہبود کو آخر کیا تکلیف ہورہی ہے، سمجھ میں نہیں آتا۔ تاہم انگریزی اور کنڑا پر بھی عبور حاصل کرنا موجودہ تقاضوں کے پیش نظر بے شک ضروری ہے اور تھرڈ لینگویج فارمولا کے تحت اقلیتی طلبہ پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس ضمن میں فیصلہ پر نظرثانی کرے۔ ایک میٹھی زبان پر حملہ کرنے کی بجائے اس کے فروغ کے لئے قدم بڑھائے۔واضح رہے کہ مذکورہ ضمن میں ایک خصوصی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کا ہر طرف سے خیر مقدم کیا جارہا ہے۔


Share: