ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مرکزی حکومت نے تلنگانہ سمیت پورے ملک کے کسانوں کی فلاح وبہبود کو اولین ترجیح دی

مرکزی حکومت نے تلنگانہ سمیت پورے ملک کے کسانوں کی فلاح وبہبود کو اولین ترجیح دی

Tue, 21 Dec 2021 21:31:22    S.O. News Service

نئی دہلی،21؍دسمبر(آئی این ایس انڈیا) تجارت اورصنعت،صارفین کے اْمور، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم نیز ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے آج کہاہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تلنگانہ سے دھان اور چاول کی خریداری میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ کم از کم امدادی قیمت ایم ایس پی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، اس طرح ریاست کے کسانوں کو ہونے والے فوائد میں بھی چار سے پانچ گنا اضافہ ہواہے۔وزیرنے کہاہے کہ ریاستی حکومت گزشتہ سال ربیع سیز میں تلنگانہ کے کسانوں کے ذریعے پیدا کیے گئے چاول اور دھان کی متفقہ مقدار فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اب تک ریاست کو تقریباً 27 لاکھ ٹن ایف سی آئی گوداموں کو اب بھی فراہم کرنا ہے۔ ان اشیاء میں تقریباً 14 لاکھ ٹن بہت زیادہ اْبلے ہوئے چاول اور 13 لاکھ ٹن کچے چاول شامل ہیں۔گوئل نے کہاہے کہ مرکز نے تلنگانہ کے کسانوں کے تئیں ایک خصوصی خیرسگالی کے طور پر گزشتہ برس ربیع کے سیزن میں پیدا کیے گئے اضافی 20 لاکھ ٹن اْبلے ہوئے چاول کی خریداری پر اتفاق کیا، حالانکہ ملک کو اس اضافی مقدار کی ضرورت تھی۔انھوں نے کہاہے کہ مرکز نے بار بار ریاستی حکومت کو چاول کی فراہمی کیلئے مقررہ وقت میں وسعت دی۔اْبلے ہوئے چاول کے معاملے پر گوئل نے کہاہے کہ ایف سی آئی کے پاس چار سال کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کافی ذخیرہ ہے اور ریاست کے ساتھ مفاہمت نامہ (ایم او یو) واضح طور پر کہتا ہے کہ مرکزی پول کیلئے ایف سی آئی کی چاول کی خریداری ملک کے باقی حصوں میں مانگ پر منحصر ہوگی۔ اس کے مطابق تلنگانہ حکومت نے 4 اکتوبر 2021 کو لکھے گئے ایک معاملے میں یہ عہد کیا تھا کہ ریاست مستقبل میں فوڈکارپوریشن آف انڈیا کو اْبلے ہوئے چاول فراہم نہیں کرے گی۔وزیر نے مزید کہا کہ کچے چاول کی خریداری میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ایف سی آئی نے ریاست سے خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ سمیت پورے ملک کے کسانوں کی فلاح وبہبود کو اولین ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاہدے کے مطابق تلنگانہ میں گزشتہ برس ربیع کے سیزن میں پیدا کیے گئے چاول کی متفقہ مقدار جلد فراہم کرے اور اسے ریاست کے کسانوں کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔ریک کی دستیابی اور ذخیرہ کرنے کی جگہ کے بارے میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے پیوش گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ریاست کو نازیبا الزامات لگانے کی بجائے اناج کی متفقہ مقدار فراہم کرنی چاہیے۔پیوش گوئل نے زوردے کرکہاہے کہ حکومت ہند ہمیشہ تلنگانہ کے کسانوں اور تلنگانہ کے لوگوں کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیشہ ان کی فلاح وبہبودکے لیے اقدامات کرے گی۔


Share: