نئی دہلی، 26/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی ) کیرالا کے صحافی صدیق کپن جو ہاتھرس آبروریزی کیس کی رپورٹنگ کیلئے متاثرہ کے گاؤں جاتے وقت گرفتار کرلئے گئے تھے، کی اہلیہ نے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رامنّا کو خط لکھ کر یہ سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ اسپتال میں علاج کے دوران ان کے شوہر کو جانوروں کو کی طرح پلنگ سے باندھ کر رکھا گیاہے اور بیت الخلاء تک جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
ریحانہ کپن نے متھرا کے اسپتال میں کپن پر ہورہے مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس سے انہیں فوری طور پر متھرا میڈیکل کالج سے جیل منتقل کی بھی مانگ کی ہے۔ اس سے قبل کیرالا کے صحافیوں کی تنظیم علاج کیلئے کپن کو ایمس منتقل کرنے کیلئے کورٹ سے رجوع ہوچکی ہے۔ یاد رہے کہ صدیق کپن جو زائد از 6؍ ماہ سے متھرا کی جیل میں بند ہیں ، جیل کے غسل خانہ میں گر جانے کے بعد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کی ٹھوڈی پر شدید چوٹ آئی ہے جس کی وجہ سے انہیں کھانا کھانے میں بھی دشواری ہے۔ علاج کیلئے انہیں جیل انتظامیہ نےمتھرا کے ہی ایک اسپتال میں بھرتی کیا ہے۔ اسپتال میں جانچ میں صدیق کپن کی کورونا رپورٹ بھی پازیٹیو آئی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا کو لکھے گئے مکتوب میں کپن کی اہلیہ نے کہا ہے کہ کپن کی حالت نازک ہے، 4؍ دنوں سے انہیں پلنگ سے باندھ کر رکھاگیاہے، نہ انہیں بیت الخلاء کے استعمال کی اجازت ہے نہ وہ کھانا کھا پارہے ہیں۔ رہانہ کپن نے سپریم کورٹ کو متنبہ کیا ہے کہ ’’اگر بروقت اقدام نہ کئے گئے تو صدیق کپن کی بے وقت موت کا سبب بن سکتاہے۔‘‘ انہوں نے سپریم کورٹ کو یاد دہانی کرائی ہے کہ ’’میڈیا جمہوریت کی سانسوں کے مترادف ہے اور یہ معاملہ میڈیا کے ایک نمائندے کی سانسیں بحال کرنے کا ہے جو زائد61؍ ماہ سے جیل میں ہے اور جس کی حبس بے جا کی پٹیشن 6؍اکتوبر 2020ء سے زیر التوا ہے۔‘‘
اس سے قبل دی ویک میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے ریحانہ نے بتایا کہ صدیق کپن 20؍ اپریل کو متھرا جیل کے باتھ روم میں گر گئے تھے جس میں انہیں شدید چوٹیں آئی تھیں۔